دیباچہ
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال قرآن کریم کو جناب نے کتاب الصبر فرمایا ہے۔ یہ قول ان کے مقابلہ میں نہایت وزنی ہے جو اس کو کتاب الجہاد سمجھتے اور اسی انداز میں اس کو متعارف کراتے ہیں۔ جہاں تک حقیقت واقعہ کا تعلق ہے تو میرے نزدیک کتاب الجہاد کہنا اگر افراط ہے تو کتاب الصبر قرار دینا تفریط ۔ قرآن کے لئے اگر ہمیں اس طرح کی کسی وضاحت کی واقعی ضرورت ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اسے کتاب الاعتدال کہنا چاہیے اور اس کے نتیجہ میں جو مذہب وجود میں آتا ہے اسے مذہب اعتدال سے متعارف کرایا جا سکتا ہے (محمد عمران مظاہری، مدرسہ حسینیہ، اغوان پور، میرٹھ) جواب آپ نے صبر کو بہت محدود معنی میں لیا ہے اس لئے آپ نے ایسا فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاد خود صبر ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں اہل ایمان کو سو میں ننانوے بار صبر کرنا پڑتا ہے اس کے بعد جہاد کا موقع آتا ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں ایمان کے تقاضوں پر زندگی گزارنے کے لئے صبر لازمی شرط ہے۔ مثلاً اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے بھی صبر درکار ہے۔ کیوں کہ اگر آپ کھوئے ہوئے پر صبر نہ کریں تو ملے ہوئے پر حقیقی جذبہ شکر کا اظہار آپ کی زبان سے نہیں ہو سکتا۔ دعوت کے لئے صبر لازمی شرط ہے۔ کیوں کہ مدعو کی زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کئے بغیر آپ سچے داعی نہیں بن سکتے۔ نماز بھی آپ خشوع کے ساتھ صرف اس وقت پڑھ سکتے ہیں جب کہ آپ دینوی تقاضوں پر صبر کر کے اللہ کی طرف متوجہ ہو گئے ہوں۔ اتفاق بھی آپ اسی وقت کر سکتے ہیں جب کہ آپ مال کی محبت کے جذبات پر صبر کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اسی طرح حج مبرور بھی اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب کہ سفر حج کے دوران پیش آنے والے مکاره پر صبر کیا جائے۔ اسی طرح اسلامی اخلاق کے اصولوں پر عمل اسی وقت ممکن ہے جب کہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں پر صبر کیا جائے۔ یہی معاملہ خود جہاد کا ہے ۔ جہاد کا آغاز دوسروں کے خلاف قتال سے نہیں ہوتا بلکہ خود اپنے نفس پر کنٹرول کرنے سے ہوتا ہے۔ مومن دوسروں کی قابل شکایت باتوں پر صبر کرتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader