دیباچہ
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے مسائل میں صحابہ کی روایتوں میں اختلاف ہے۔ مثلاً بعض روایتوں میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا ذکر ہے اور بعض دوسری روایتوں میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کا۔ اس طرح کے اختلافات کی موجودگی میں صلوا كما رأيتموني اصلي کے حکم پر کس طرح عمل کیا جائے گا؟ (محمد امین گڈو، سری نگر، کشمیر) جواب اس طرح کے اختلاف سے معلوم ہوتا ہے کہ آداب نماز میں توسع کا اصول ہے اس لئے تو حد کے اصول پر کوئی ایک نمونہ قائم کرنے کی کوشش درست نہیں۔ امام شافعی نے بجاطور پر کہا ہے کہ رای صواب يحتمل الخطاء ورای غیري خطا يحتمل الصواب ۔ میری رائے درست ہے احتمال خطا کے ساتھ اور فریق ثانی کی رائے غلط ہے احتمال صواب کے ساتھ ۔ ظاہر ہے کہ اس معاملہ میں روایتوں کے اختلاف کو ایک ثابت کرنے کی ساری کوشش کے باوجود صرف احتمال ثابت ہوتا ہے تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس اختلاف کو توسع پر محمول کیا جائے اور میرے نزدیک یہی محدثین کا مسلک تھا۔ نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے خشوع کا ایک عمل ہے نہ کہ محض کچھ ظواہر کی صحت ادائیگی کا عمل۔ ایسی حالت میں ظاہری آداب میں فرق ہونا ایک فطری بات ہے۔ نمازی کو چاہئے کہ اپنا سارا دھیان داخلی کیفیت پر دے، نہ کہ ظاہری ہیئت پر۔ چنانچہ ظاہری ہیئت کی صحت ادائیگی کے باجود ایک شخص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ارجع فصل فانک لم تصل (جاؤ پھر سے نماز پڑھو، کیوں کہ تم نے نماز نہیں پڑھی)۔ ایک شخص نے کہا کہ شام ہوگئی دوسرا شخص بولا یوں کہو کہ صبح ہونے والی ہے (الرساله اکتوبر ۸۷)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader