Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال الرساله ماه ستمبر ۲۰۰۱ء میں ایک خط کے جواب میں حدیث ترمذی اور ابن ماجہ کتاب الزہد کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے کہ زمین میں چارا نگل جگہ بھی نہیں مگر وہاں ایک فرشتہ اپنی پیشانی رکھے ہوئے اللہ کے لئے سجدہ کی حالت میں موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس دنیا میں زمین پر انسانوں کی رہائش گاہیں بھی ہیں، گندگی کے اسباب بھی ہیں۔ اس حالت میں فرشتے کس شکل میں اپنی پیشانی سجدہ کی حالت میں اللہ کے لئے رکھے ہوئے ہیں؟ تفصیل سے مستفید فرمائیں۔ (ابرار حسین قریشی، دھار، مدھیہ پردیش) جواب اس حدیث میں ”سجدہ‘‘ لفظی معنوں میں نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک تعبیر ہے۔ حدیث کا مدعا یہ ہے کہ ساری دنیا میں اللہ کے فرشتے کثرت سے موجود ہیں اور ہر لمحہ اللہ کی اطاعت میں سرگرم رہتے ہیں۔ اس حدیث کو پڑھ کر آدمی کو چاہیئے کہ وہ خود اپنے بارے میں سوچے، نہ کہ فرشتوں کے بارے میں۔ وہ فرشتوں کے ”سجدہ‘‘ سے زیادہ خود اپنے سجدے کے لئے فکر مند ہو جائے۔ سوال آپ عالم دین ہیں۔ آپ کو ہر سوال کا جواب دینا چاہیئے ۔ اگر جواب نہیں دیتے ہیں تو یہ آپ کی غلطی ہے کہ آپ نے اس شخص کو اسلام کی باتیں نہیں بتائیں جو آپ سے سوال کر کے جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ قیامت کے دن کیا میں خدا سے عرض نہیں کروں گا کہ مجھے علم نہیں تھا اور میں نے ان سے علم مانگا۔ مگر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ (شاہ عمران حسن، دلاور پور، مونگیر، بہار) جواب علم کے حصول کا ذریعہ سوال و جواب نہیں۔ بلکہ مطالعہ ہے یا اہل علم کی صحبت میں بیٹھنا۔ جو بات ذہن میں آجاۓ، اس کو سوال بنانا اور اس پر لمبے لمبے خطوط لکھنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی اسلام کا طریقہ نہیں کہ کوئی شخص اس قسم کا ایک مضمون استفتاء کے لئے بنائے کہ الرسالہ کو پڑھنا جائز ہے یا ناجائز اور پھر مفتی صاحبان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page