Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

اس پر ’’الجواب صحیح‘‘ کی مہر کے ساتھ تفصیلی جواب دینا شروع کردیں۔ اس قسم کا سوال پوچھنا بھی اسلامی روح کے خلاف ہے اور اس کا جواب دینا بھی اسلامی روح کے خلاف۔ چنانچہ ایک صحابی کہتے ہیں: و كان ينهى عن قيل وقال كثرة السؤال (صحيح البخاري، كتاب الرقاق) سوال کامیاب ازدواجی زندگی میں صرف بہو کو نقطہ نظر بنایا جاتا ہے۔ یہاں چھ گھر ساس، بہو کا ہے۔ میں نے کچھ الگ دیکھا۔ ایسا کیوں ہے کہ گھر کے سارے جھگڑے کی وجہ بہو کو مانا جاتا ہے۔ کیا سسرال میں بہو کو داعی کی طرح رہنا چاہئے جو یک طرفہ ناخوش گواریوں کو برداشت کرلے۔ (صوفیا حیدر، بتیا، بہار) جواب شرعی اعتبار سے ساس اور بہو دونوں کی ذمہ داری بالکل یکساں ہے۔ ساس کا فرض ہے کہ وہ اپنی بہو کو وہی عزت اور محبت دے جو وہ اپنی بیٹی کا حق سمجھتی ہے۔ اسی طرح بہو کا فرض ہے کہ وہ ساس کے ساتھ اسی عزت اور محبت کا معاملہ کرے جو وہ اپنی ماں کے لئے کرتی رہی ہے۔ اس معاملہ میں دونوں میں سے جو بھی کوتاہی کرے گا وہ یقینی طور پر اس کے لئے آخرت میں پکڑا جائے گا۔ دونوں میں سے کوئی بھی آخرت کی پکڑ سے بچنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر گھر کو امتحان کا مقام بنا دیا ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے لئے امتحان کا پرچہ ہیں۔ اسی طرح ساس اور بہو دونوں ایک دوسرے کے لئے امتحان کا پرچہ ہیں۔ یہ امتحان اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس میں کوتاہی کی تلافی نماز روزہ کے ذریعہ بھی نہیں ہو سکتی۔ سوال قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ خدا کی تسبیح اور اس کا ذکر کر رہی ہیں۔ ہر چیز خدا کے ذکر میں مشغول ہے۔ یہاں دنیا میں ایسی بھی چیزیں ہیں جو گندگی کی حالت میں ہوتی ہیں تو کیا وہ بھی ذکر کر رہی ہیں؟۔ قرآن کی ان باتوں کا اصل مفہوم کیا ہے؟۔ براہ کرم وضاحت فرمائیں۔ (خورشید احمد کمار، شوپیان، کشمیر)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page