دیباچہ
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
نے اس کو صحیح بتایا ہے۔ کچھ نے اختلاف بھی کیا ہے (مہدی حسن، وارانسی) جواب مذکورہ دونوں مسئلہ کے بارے میں الرسالہ میں مضامین آ چکے ہیں۔ دوسرے علماء نے بھی اس پر بہت کچھ لکھا ہے۔ اس معاملہ میں اصل مسئلہ واقفیت کا نہیں ہے بلکہ عمل کے جذبہ کا ہے۔ موجودہ مسلمانوں میں عمل کا جذبہ نہیں، اس لئے وہ مسئلہ پیدا ہوا جس کا آپ نے ذکر کیا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تعلق حکومت سے نہیں ہے بلکہ اسکا تعلق افراد سے ہے۔ اسکی اصل یہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں دوسرے مسلمان کے لئے خیر خواہی کا جذبہ ہو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا مددگار بننا چاہتا ہو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو انصاف اور دیانت کی روش پر دیکھنا چاہے۔ اسی جذبہ کی مخلصانہ تعمیل کا نام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ایک دوسرے کیلئے خیر خواہی نہیں، اس لئے ان کے درمیان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل بھی جاری نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کے لئے سچی خیر خواہی موجود ہو تو خود فطرت کے زور پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عمل جاری ہو جائے، خواہ اس کے شرعی مسائل لوگوں کو بتائے گئے ہوں یا نہ بتائے گئے ہوں۔ محبوب پوتے کی وراثت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ محبوب پوتے کو وراثت نہ دی جائے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ محبوبیت کی بنا پر بظاہر جو وراثتی لنک ٹوٹ رہی ہے اسکو وصیت کے ذریعہ پورا کر دیا جائے ۔ اگر کسی خاندان میں آپ ایسا نہ دیکھیں تو اس کا سبب شرعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ لوگوں کی سرکشی ہے، مثلاً بہن کا حق شرعی طور پر معلوم اور مسلم ہے مگر بہت کم مسلمان ہیں جو بہن کو اسکا باقاعدہ شرعی حق دیتے ہوں۔ سوال مجھے صوفی سنتوں کے جیون چرتر پڑھنے کا شوق ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت شیخ فریدالدین عطار رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب تذکرۃ الاولیاء کا اردو میں ترجمہ جناب مولانا قاری محمد عادل خان صاحب کا پڑھا۔ اس کتاب میں حضرت ذوالنون مصری کے حالات و مناقب میں آپ کا ایک ارشاد ہے۔ ’’قلیل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader