Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

کھانا جسمانی توانائی کا ذریعہ ہے اور قلیل گناہ روحانی توانائی کا ذریعہ (79.p) اس ارشاد میں ”قلیل کھانا جسمانی توانائی کا ذریعہ ہے“ تو سمجھ میں آگیا لیکن ”قلیل گناہ روحانی توانائی کا ذریعہ ہے“ سمجھ میں نہیں آیا۔ براہ کرم اس پر روشنی ڈالنے کی مہربانی فرمائیں۔ (رام دیو، جی ایچ ۴/ ۷۹۲، پچھتم وہار، نئی دہلی، ۱۱۰۰۶۳) جواب جس طرح جسمانی صحت کے لیے غذا ضروری ہے اسی طرح روح کی قوت اور علم کی ا جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اس ملفوظ میں نیل لناہ سے مراد وہی چیز ہے۔ جس کو قرآن میں لمم کہا گیا ہے (النجم ۳۲) اس سے مراد گناہ کرنا نہیں ہے بلکہ گناہ ہو جانا ہے۔ گناہ کبیرہ سرکشی کے تحت ہوتا ہے اور گناہ صغیرہ بشری تقاضہ کے تحت۔ جو آدمی گناہ کبیرہ سے بچنے کا اہتمام کرے اور بشری تقاضہ کے تحت اتفاقاً کبھی گناہ صغیرہ کا مرتکب ہو جائے تو ایسا شخص قابل معافی ہے، نیز توبہ اور احساس گناہ کی صورت میں وہ انسان کی روحانی ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ سوال میں سوامی ویویکانند کا پیرو ہوں۔ میں ان کی کتاب آپ کو بھیج رہا ہوں۔ سوامی جی کا کہنا ہے کہ تمام مذاہب ایک ہی سچائی کی طرف جانے کے الگ الگ راستے ہیں۔ چاہے وہ ہندوازم ہو یا مسیحیت ہو یا اسلام ہو یا سکھ ازم ہو یا یہودیت ہو۔ میرے نزدیک اسی کا پرچار کیا جانا چاہئے تاکہ لوگوں کے اندر ایکتا پیدا ہو۔ (ڈی این ملہوترا، دلشاد گارڈن، دہلی) جواب وحدتِ ادیان کے اس تصور سے مجھے اتفاق نہیں۔ سچائی کبھی بھی متعدد نہیں ہو سکتی۔ سچائی اگر ایک نہ ہو تو وہ سچائی نہیں۔ وحدتِ ادیان کے اس نظریہ کے حق میں کوئی بھی منطقی دلیل موجود نہیں۔ یہ پورا نظریہ صرف تمثیلات کے اوپر قائم ہے اور تمثیل سے کبھی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ چنانچہ کہا گیا ہے: Anology is the weakest form of Argument. سچائی کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ آدمی کو یقین عطا کرے۔ دنیا میں جینے کے لئے آدمی کو یقین کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page