Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

لیکن اگر کہیں ایسا ہو کہ وقت کا نظام اس طرح بگڑ جائے کہ آدمی اپنا جائز حق بھی رشوت دیے بغیر نہ پاسکے تو ایسی حالت میں اضطرار کا اصول منطبق ہوگا اور اپنا واقعی حق لینے کے لئے اس کا دینا جائز قرار پائے گا۔ سوال کہا جاتا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں ۔ بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا بدعت کی یہ تقسیم درست ہے اور اگر درست ہے تو ان دونوں قسموں کے درمیان کیا فرق ہے؟۔ تفصیل سے مستفید فرمائیں۔ (ندیم احمد سنابلی، دہلی) جواب عام طور پر بدعت کی یہ تعریف کی جاتی ہے کہ: کل ما احدث فی الدین فهو بدعة (نئی ہر چیز جو دین میں نکالی جائے وہ بدعت ہے) مگر یہ تعریف پوری طرح واضح نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بدعت (innovation) زندگی کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ زندگی میں بار بار نیا پن لانا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا مسلسل سفر ممکن نہیں ہوتا۔ تا ہم نئی چیز کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ خود دین خدا میں کوئی نئی چیز نکالنا جس کا ثبوت قرآن وسنت میں موجود نہ ہو۔ مثلاً ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی کرنا۔ یہ طریقہ قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ اس لئے اس کو غیر مطلوب قرار دیا جائے گا۔ بدعت یا نئی چیز کی دوسری صورت وہ ہے، جو زمانہ کی ضرورت یا حالات کی تبدیلی کی بنا پر اختیار کی جائے مثلاً قرآن میں اعدا قوت (الأنفال ۶۰) کا حکم آیا ہے۔ اس کی تشریح حدیث میں رمی سے کی گئی ہے۔ یعنی تیر مارنا۔ مگر موجودہ زمانہ میں تمام مسلم ملکوں میں اعدا قوت کو جدید اسلحہ کی فراہمی کے معنی میں لیا جاتا ہے نہ کہ تیر کمان کی فراہمی کے معنی میں ۔ یہ بظاہر ایک نئی چیز ہے مگر وہ مطلوب بدعت ہے، نہ کہ غیر مطلوب بدعت ۔ اس فرق کو دوسرے لفظوں میں عبادتی بدعت اور معاملاتی بدعت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page