Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال میں نے آپ کی کچھ تحریریں پڑھی ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ آپ اکثر صلح حدیبیہ کا ذکر کرتے ہیں۔ صلح حدیبیہ تو قدیم زمانہ میں ایک خاص وقت کے لحاظ سے تھی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کیلئے اسکی مناسبت (relevance) کیا ہے؟۔ اسکی وضاحت فرمائیں۔ (خالد انصاری، نئی دہلی) جواب صلح حدیبیہ کوئی منفرد تاریخی واقعہ نہیں۔ وہ فطرت کا ایک عام اصول ہے۔ اس کا تعلق ہر زمانہ سے ہے۔ وہ فرد کی زندگی کے لئے بھی کارآمد ہے اور قوم کی زندگی کے لئے بھی۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں اکثر دو فریقوں کے درمیان نزاع قائم ہو جاتی ہے۔ یہ نزاع بظاہر کسی حق یا کسی انصاف کے لئے ہوتی ہے۔ مگر زندگی کا قانون یہ ہے کہ آپ اپنا حق فریق ثانی سے نہیں لے سکتے۔ آپ کا مطلوب حق خود آپ کے تعمیری عمل کا نتیجہ ہوتا ہے نہ کہ فریق ثانی سے ملا ہوا عطیہ۔ حدیبیہ پرنسپل یہ بتاتا ہے کہ جب کسی سے نزاع قائم ہو جائے تو نزاع کو حق یا انصاف کا سوال نہ بناؤ بلکہ اس کو امن کا سوال بناؤ۔ یعنی ہر قیمت پر جلد سے جلد نزاع کو ختم کر دو۔ نزاع کو ختم کرنے کا مطلب حالات کو نارمل بنانا ہے۔ نزاع کے وقت یہ ہوتا ہے کہ آپ کی ساری طاقت فریق ثانی سے لڑنے میں ضائع ہونے لگتی ہے۔ عین اسی وقت آپ کے لئے مواقع کار موجود ہوتے ہیں۔ مگر آپ ان مواقع کو استعمال نہیں کر پاتے۔ جب کہ کامیابی ہمیشہ مواقع کو استعمال کرنے سے ملتی ہے، نہ کہ حقوق کی لڑائی لڑنے سے۔ حدیبیہ پرنسپل ایک ابدی پرنسپل ہے۔ یہ ایک حکیمانہ تدبیر ہے۔ اس تدبیر کا خلاصہ یہ ہے کہ... ٹکراؤ کو اوائڈ کر کے نارمل حالات پیدا کرو، تاکہ تمہیں موجودہ امکانات کو استعمال کرنے کا موقع مل جائے۔ نزاع کو غیر مشروط طور پر ختم کرنا بظاہر نقصان کا ایک معاملہ دکھائی دیتا ہے۔ مگر نقصان کوئی مطلق چیز نہیں، نقصان ایک تقابلی چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نزاع کو باقی رکھنے میں بھی نقصان ہے اور نزاع کو ختم کرنے میں بھی نقصان۔ آپ کو یہ کرنا چاہئے کہ دونوں قسم کے نقصان کے درمیان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page