Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

موازنہ کریں۔ اگر آپ اس طرح موازنہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ نزاع کو باقی رکھنے میں زیادہ نقصان ہے اور نزاع کو ختم کرنے میں کم نقصان۔ ایسی حالت میں حدیبیہ پرنسپل کو اختیار کرنا گو یا زیادہ نقصان کے مقابلہ میں کم نقصان کو اختیار کرنا ہے اور بلاشبہ دانش مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ زیادہ نقصان والی صورت کو چھوڑ دیا جائے اور کم نقصان والی صورت کو اختیار کر لیا جائے۔ مزید یہ کہ حدیبیہ اصول پر نزاع کو ختم کرنے والے لوگ اگر دانش مند ہوں تو یہ تدبیر ان کے لئے اس سے بھی زیادہ بڑے فائدہ کا باعث بن سکتی ہے اور وہ ہے وقتی نقصان کو گوارا کر کے مستقبل کے عظیم تر فائدہ کو محفوظ کر لینا ۔ سوال اسلام کے مطابق ، جنت اس کو ملے گی جو خدا کی شریعت پر عمل کرتا ہو ۔ مگر یہ نظریہ ایک محدود نظریہ معلوم ہوتا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ جو خدا کی شریعت کی بات نہیں کرتے مگر وہ ایک با اخلاق زندگی گزارتے ہیں ۔ وہ جھوٹ نہیں بولتے ، وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے ، وہ دوسروں کی خدمت کرتے ہیں ، وغیرہ ۔ اس قسم کے بہت سے اچھے لوگ ہیں ۔ آخر وہ خدا کی جنت سے محروم کیوں رہیں گے ؟ ۔ یہ بات کچھ سمجھ میں نہیں آتی ۔ (رجت ملہوترا ، نئی دہلی) جواب یہ صحیح ہے کہ غیر خدا ترس لوگوں میں بھی بظاہر کچھ اخلاقی خوبیاں نظر آتی ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو یہ صحیح معنوں میں اخلاق نہیں ہوتا۔ زیادہ درست طور پر اسکو سماجی برتاؤ (social manners) کہا جا سکتا ہے۔ کوئی آدمی اس قسم کی اخلاقی روش اس لئے اختیار کرتا ہے تا کہ سماج میں اس کو اچھا سمجھا جائے۔ یہ خود پرستی کی ایک صورت ہوتی ہے، نہ کہ حقیقتاً خدا پرستی کی صورت۔ اس سماجی اخلاق کی اصلیت اس وقت کھل جاتی ہے جب کہ کوئی حقیقی جانچ کا موقع آ جائے ، جب آدمی کو اپنا کوئی بڑا مفاد خطرہ میں جاتا ہوا نظر آئے ، جب کسی اخلاقی تقاضہ کو پورا کرنے کیلئے اس کو اپنی انا کو قربان کر دینا پڑے۔ اس قسم کا اخلاق ذاتی انٹرسٹ کے تابع ہوتا ہے، وہ مستقل اصول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page