دیباچہ
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
دین کے مطابق ، چونکہ درست نہیں تھا، اسلئے دیکھیے کہ وہ ان کا اور ان کی والدہ کا ذکر کیسے کرتے ہیں : میں اپنے قریبی رشتہ داروں میں سے ایک سے زیادہ ایسے افراد کو جانتا ہوں جو کم عمری میں ماں کی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پوری زندگی بربادی کا نشان بن گئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کے روپ میں عورت کا رول انسانی زندگی میں بہت زیادہ ہے۔ عبداللہ بن زبیر کی ماں (اسما) نے ان کو ایک بڑے اقدام پر ابھارا۔ چنانچہ ایک شخص جو اقدام کا ارادہ چھوڑ چکا تھا، وہ دوبارہ اقدام کے لئے آمادہ ہو گیا۔ شہنشاہ اکبر کی ماں (مریم مکانی) نے اکبر کو ملا عبد النبی کے خلاف کاروائی سے روکا۔ چنانچہ اکبران کے خلاف سخت کاروائی سے باز رہا، وغیرہ وغیرہ۔ راقم الحروف اگر بچپن میں ماں سے محروم ہو جاتا یا اگر مجھ کو ایسی ماں ملتی جو مجھے اپنے ’’دشمنوں‘‘ کے خلاف لڑنے جھگڑنے پر اُکساتی رہتی تو یقینی طور پر میری زندگی کا رخ دوسرا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے ایسے انجام سے بچایا اور مجھ کو اپنی ایک صداقت کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ مولانا وحید الدین کے نزدیک صحابہ پر تنقید کرنا جائز نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عند اللہ ابن زبیر پر تنقید نہیں ؟ کیا یہ حضرت اسما بنت ابی بکر پر تنقید نہیں......؟ ہم اس بات سے صرف نظر کرتے ہیں کہ مولانا وحید الدین خاں کی رائے میں صحت کا امکان کتنا ہے ، ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت اسما کا ذکر اس اسلوب میں اور اس تقابل کے ساتھ ، کیا تنقید کا کوئی قابل تحسین اسلوب ہے؟‘‘(ایک قاری الرساله، لاہور) جواب پاکستانی ماہنامہ کے مذکورہ مضمون میں جو بات کہی گئی ہے وہ بلاشبہہ غیر علمی بھی ہے اور غیر ذمہ دارانہ بھی۔ یہ اعتراض راقم الحروف کی کتاب (خاتون اسلام) کے ایک باب سے لیا گیا ہے۔ کوئی بھی شخص اس باب کو غیر جانبدارانہ انداز سے پڑھے تو یقیناً وہ جان لے گا کہ اس باب کا موضوع صحابہ یا صحابیہ کی روش پر تبصرہ نہیں ہے جس کی ایک مثال’’ خلافت وملوکیت‘‘ نامی کتاب ہے۔ میری کتاب کا موضوع اسکے برعکس صرف ایک مغربی پروپیگنڈہ کا جواب ہے۔ میں نے اس کتاب میں یہ بتانے کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader