دیباچہ
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
کوشش کی ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے خانہ نشین عورت بھی بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہے۔ جس کو مغربی لوگ صرف غیر خانہ عورتوں کیلئے ممکن سمجھتے ہیں۔ اس نکتہ کو ثابت کرنے کیلئے میں نے کتاب میں تین خواتین کی مثالیں دی ہیں۔ حضرت اسماء، مریم زمانی، زیب النساء۔ میری کتاب کی مذکورہ عبارت میں نعوذ باللہ کسی صحابی یا صحابیہ پر تنقید ہرگز نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اس میں سادہ طور پر تین خواتین کا، خاتون کی حیثیت سے رول بتایا گیا ہے۔ عبارت کے مدعا کے مطابق، اس مثال میں مذکورہ خاتون کا صحابیہ ہونا ایک اتفاقی امر ہے۔ بلاغت کا مسلم اصول ہے کہ تمثیل کے طریقہ میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ پیش نظر مثال کا متعلق پہلو ہی مقصود ہوتا ہے اور اس کے علاوہ دیگر پہلو وہاں غیر متعلق قرار پاتے ہیں۔ مذکورہ تنقید میں دو واضح غلطیاں کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ ناقد نے اس علمی نکتہ کو ملحوظ نہیں رکھا کہ اس مثال میں حضرت اسماء کا نام صحابیہ کی حیثیت سے مراد نہیں ہے بلکہ دوسری دو خواتین کی طرح ، ان کا نام بھی یہاں ایک خانہ نشین خاتون کی حیثیت سے مراد ہے۔ دوسری بات یہ کہ میری کتاب میں ان خواتین کا نام تنقید کے مقصد سے نہیں لایا گیا ہے بلکہ ان کے تعریفی کارنامہ کی حیثیت سے لایا گیا ہے۔ مذکورہ ناقد نے اپنے ایک ذہنی تخیل کو شامل کر کے غیر ضروری طور پر اس کو قابل اعتراض بنانے کی کوشش کی ہے اور اسطرح انہوں نے ایک تعریفی حوالہ کو خلاف واقعہ طور پر تنقیدی حوالہ بنا دیا ہے۔ سوال ہندوستان کی کئی یونیورسٹیوں میں اور باہر کی کچھ یونیورسٹیوں میں بھی اسلامک اسٹڈیز کے نام سے شعبے قائم ہیں۔ ہمارے مدارس میں بھی اسلام کے مطالعہ کا انتظام ہے۔ یہ دونوں ایک ہیں یا ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader