Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

میں کوئی فرق ہے۔ سیکولر یونیورسٹیوں اور دینی مدارس میں اس اعتبار سے اگر کوئی فرق ہے تو وہ کیا ہے؟۔ (ندیم احمد سنابلی، دہلی) جواب سیکولر یونیورسٹیوں میں اسلام کے مطالعہ کا تصور اس سے مختلف ہے جو ہمارے دینی مدارس میں پایا جاتا ہے۔ دینی مدارس میں اسلام کا مطالعہ ایک مقدس الہامی مذہب کے طور پر کیا جاتا ہے۔ جبکہ سیکولر یونیورسٹی میں اسلام یا کسی اور مذہب کا مطالعہ صرف اسلئے کیا جاتا ہے کہ وہ ایک تاریخی ظاہرہ یا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اصحاب مدارس کے مطالعہ کا طریقہ داخلی (subjective) ہے اور اصحاب یونیورسٹی کا طریقہ خارجی (objective) ہے۔ اسکو ایک عملی مثال سے سمجھئے۔ مثلاً اسلام کے دور اول میں حسین ابن علی اور یزید ابن معاویہ کی فوجوں کے درمیان مسلح ٹکراؤ ہوا۔ یزید ابن معاویہ کی فوج نے حسین ابن علی کو شہید کر دیا۔ اس واقعہ کو اہل مدرسہ اس نظر سے دیکھیں گے کہ حسین ابن علی پیغمبر اسلام کے نوما سے تھے اور پھر اسی جذباتی وابستگی کے تحت اپنی رائے قائم کریں گے۔ اسکے برعکس سیکولر ذہن کے لوگ اسکو سادہ طور پر صرف ایک تاریخی واقعہ کی حیثیت سے لیں گے اور بے لاگ خارجی معلومات کی روشنی میں اس کا اندازہ (assessment) کریں گے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صاحب مدرسہ سارے معاملے کو حسین کی معصومیت اور یزید کے ظلم کے نقطہ نظر سے دیکھیں گے۔ اسکے برعکس یونیورسٹی کے لوگ خالص خارجی حقائق کی روشنی میں اس پر رائے قائم کریں گے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اہل مدرسہ یہ کہیں گے کہ'' یزید پلید کی فوجوں نے نواسۂ رسول کو مظلومانہ طور پر شہید کیا‘ ‘ اسکے برعکس دوسرا فریق یہ کہے گا کہ حسین ابن علی کے اقدام کی حیثیت دمشق کی خلافت کے نزدیک بغاوت کی تھی، اسلئے خلافت دمشق کی فوجوں نے حسین ابن علی کے خلاف جو اقدام کیا وہ وہی تھا جو ہر قائم شدہ حکومت کرتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page