Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

پالے گا جو وہ چاہتا ہے۔ موجودہ مختصر دنیا وہ مقام انتخاب ہے جہاں اُن افراد کو چنا جا رہا ہے جو موت کے بعد آنے والی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو استثنائی طور پر لامحدود استعداد (unlimited رکھتا ہے۔ دنیا کا سب سے زیادہ مصروف یا سب سے زیادہ کامیاب انسان بھی اپنے capacity( کا بمشکل دو فیصد حصہ کو استعمال کر سکا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا اپنی محدودیت کی بنا (mind) سراسر گنجائش ہی نہیں رکھتی کہ جہاں کوئی آدمی اپنی پوری استعداد کے ساتھ جی سکے۔ اس مطالعے کے مطابق، انسان کی استعداد اور قابل حصول دنیا میں ایک تضاد پایا جاتا ہے۔ یہ تضاد اس بات کا ایک قرینہ ہے کہ موجودہ دنیا کے علاوہ ایک اور دنیا ہو جہاں انسان اپنے لئے پوری تکمیل (fulfilment) پاسکے، جہاں آدمی کے لئے اپنی پوری استعداد کے ساتھ جینا ممکن ہو۔ یہ گویا اس بات کی ایک نفسیاتی شہادت ہے کہ آج کی محدود دنیا کے علاوہ ایک لامحدود اور کامل دنیا موجود ہے، اسی دوسری دنیا کا نام جنت ہے۔ اس تخلیقی نقشہ کے مطابق موجودہ دنیا کی حیثیت گویا انتخاب کا ایک ابتدائی مقام ہے۔ یہاں وہ افراد چنے جارہے ہیں جو اپنے قول و عمل سے اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ جنت کی نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں۔ ۲۔ موت کے بعد کیا ہوتا ہے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی انسان پر جو موت واقع ہوتی ہے وہ اُس کے موجودہ جسم پر واقع ہوتی ہے، اُس کی روح پر نہیں۔ انسان ایک ایسی ہستی ہے جو تغیر پذیر چیز کی حیثیت رکھتی ہے: personality is changelessness in change. اسلام کے مطابق، جب کوئی انسان مرتا ہے تو وہ اپنے موجودہ مادی جسم کو چھوڑ کر اگلی دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں وہ نئے اور زیادہ بہتر جسم کے ساتھ ہمیشہ کے لئے رہ سکے۔ ۳۔ بھنور (whirlpool) کا نظریہ کچھ فلسفیوں کا ایک خیالی نظریہ ہے۔ اسلام نے زندگی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page