Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

کا جو تصور دیا ہے اُس میں ایسا کوئی مرحلہ نہیں ۔ اسلام کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ مرنے کے بعد ساری انسانی روحیں بھنور کی مانند کسی جگہ عالم پریشانی میں اکٹھا ہو رہی ہوں۔ اسلام کے مطابق ہر انسان کا تشخص الگ ہے۔ ہر انسان اپنا ایک مستقل وجود رکھتا ہے۔ ہر انسان موجودہ دنیا میں اپنے قول و عمل کے ریکارڈ کے مطابق اپنی بری یا اچھی شخصیت بناتا ہے۔ اِسی کے مطابق اگلی دنیا میں اُس کا اچھا یا برا انجام ہونے والا ہے۔ اچھے انجام والے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور برے انجام والے لوگ جہنم میں داخل کیے جائیں گے۔ ۴- اسلام کا تصور حیات فلسفہ اور موجودہ مذاہب دونوں سے الگ ہے۔ اسلام کا تصور تمام تر امتحان (test) کے تصور پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا ایک قسم کی تربیت گاہ ہے۔ یہاں آدمی کو آزادانہ اختیار دے کر یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ یہاں کے مختلف حالات سے گزرتے ہوئے اپنے آپ کو تیار کرے۔ وہ منفی واقعات کا مثبت جواب دے، وہ ناموافق تجربات کے باوجود بلند کرداری کا ثبوت دے۔ وہ وقتی جذبات سے غیر متاثرہ کر مستقبل کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے ۔ وہ وقتی داعیات سے غیر متاثرہ رہ کر ابدی حقیقتوں میں جینے کا ثبوت دے۔ وہ آزادی کے باوجود اپنی أنا کو خدا کے آگے جھکا دے۔ وہ خود پسندی کی زندگی گزارنے کے بجائے خدا رخی زندگی (God oriented life) گزارے۔ وہ دنیا کی تعمیر کے بجائے آخرت کی تعمیر کو اپنا مقصدِ حیات بنائے۔ ۵- آپ نے اپنے مطالعہ کے لئے کچھ کتابیں دریافت کی ہیں۔ اسلام کو سمجھنے کے لئے آپ کو قرآن اور حدیث رسول کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ قرآن و حدیث کے علاوہ موجودہ زمانہ میں بہت سی کتابیں اسلام کے تعارف اور تشریح میں لکھی گئی ہیں۔ اُن میں سے ایک راقم الحروف کی کتاب ہے جس کا نام یہ ہے: Islam Re-discovered سوال گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی اس بات کی متقاضی ہے کہ ملک کے مسلمان ذات و برادری اور مسلکی اختلافات سے یکسر کنارہ کش ہو کر اور متحد ہو کر کوئی دائمی لائحہ عمل تیار کریں۔ خصوصاً مسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page