Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال الرساله جون ۲۰۰۲ میں آپ کا مضمون اصل سبب جہالت‘‘ پڑھا۔ میرے نزدیک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسلمانوں کے اوپر جو کچھ بیت رہا ہے اس کا اصل سبب صرف جہالت ہے۔ آپ کی اس قسم کی بے موقع تشریحات سے آپ کے مخالفین کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ آپ کو غیر ضروری طور پر بدنام کریں۔ ورنہ آپ کی مثبت فکر کے نتائج خاطر خواہ برآمد ہو سکتے تھے۔ کسی بھی تبصرے کے وقت حالات کا تناظر پیش رہنا چاہیئے۔ ایک عالم دین اور ایک مصلح کی حیثیت سے آپ کے لئے مقام غور و فکر تھا کہ ایسے نازک حالات میں کس قسم کی بات کی جائے کہ مسلمانوں کو اپنے زخم خوردہ دلوں پر کوئی پھاٹا محسوس ہوتا۔ مخصوص حالات کے کچھ مخصوص تقاضے بھی ہوتے ہیں جن کو ملحوظ رکھنا علماء کا ہی تو کام ہوتا ہے۔ (خالد خانقاہی۔ حیدر آباد) جواب اس معاملہ میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کی دل پسند باتیں کہہ کر ان کے درمیان مقبولیت حاصل کی جائے۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو بتایا جائے کہ قرآن وسنت کی رہنمائی کے مطابق ان کے مسائل کا حل کیا ہے۔ گہرے مطالعہ کے بعد ہم نے جانا ہے کہ قرآن وسنت کی رہنمائی تمام تر احتساب خویش پر مبنی ہے نہ کہ احتساب غیر پر۔ دوسروں کے اوپر ذمہ داری ڈالا نغیر اسلامی طریقہ ہے اور خود ذمہ داری قبول کرنا اسلامی طریقہ۔ مکی دور میں تیرہ سال تک رسول اور اصحاب رسول کو ہر طرح ستایا گیا۔ اس معاملہ میں خدا کی طرف سے جو ہدایت دی گئی وہ صرف یہ تھی کہ تم ان کی ایذاؤں پر صبر اور اعراض کرو (ابراہیم (۱۲) غزوہ ے بیہدایت دی گئی ہے کہ اس کی پناہ اور اس پر بھروسہ رکھو۔ (روء: ۸۱) اُحد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو قرآن میں خود مسلمانوں سے کہا گیا کہ تم اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کرو (آل عمران (۱۵۲) ۔ غزوہ حنین میں مسلمانوں کو مشرکین کی جارحیت کا شکار ہونا پڑا۔ اس وقت بھی یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی کمزوری کی نشاندہی کی گئی ۔ (التوبہ ۲۵) حدیبیہ کے موقع پر مشرکین نے شدید حمیت جاہلیہ کا مظاہرہ کیا مگر مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ رد عمل سے بچتے ہوئے یک طرفہ طور پر متقیانہ روش اختیار کریں اور مشرکین کی شرائط پر صلح کر کے مدینہ واپس چلے جائیں (الفتح ۲۶)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page