سوال و جواب
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
علماء، لیڈر، دانشور اور حکومت کے اندر خدمات انجام دینے والے سر جوڑ کر بیٹھیں ۔ جذبات سے مغلوب ہونے کی ضرورت نہیں ۔ تمام مسلمانوں کو انصاف کی آواز بلند کرنی چاہئے ۔ جن لوگوں کو اللہ نے لائق و فائَق بنایا ہے اور وہ اس سے اعراض کرتے ہیں تو قیامت کے دن سخت جواب دہ ہوں گے اور انہیں تاریخ معاف نہیں کرے گی ۔ کیا کم از کم ہم آئین کے تحت بھی ایسا کرنے کے اہل نہیں ؟ (محبوب الرحمن پھلواری شریف) جواب آپ کی تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان متحد ہو کر آئین کے مطابق، اپنی آواز بلند کریں، اس سے ان کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ آپ کو یاد نہیں کہ یہ کام بار بار کیا جا چکا ہے اور ہر بار نا کام ہوا ہے۔ چونکہ ان کوششوں کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا، اس لئے آپ سمجھتے ہیں کہ کوشش بھی نہیں کی گئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت کے نام پر برصغیر کے تمام مسلمان متحد ہو گئے، مگر اس اتحاد کا مطلوب نتیجہ مسلمانوں کے حصہ میں نہیں آیا۔ اس کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کا غلغلہ بلند ہوا اور دوبارہ برصغیر کے تمام مسلمان اُس کے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو گئے، مگر یہ اتحاد بھی عملاً بے نتیجہ رہا۔ ۱۹۷۴ء کے بعد ہندوستان میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت قائم ہوئی ۔ اس مجلس میں بھی ہر طبقے کے مسلمان شریک ہو گئے مگر اس اتحاد کے باوجود مسلمانوں کی حالت جہاں پہلے تھی وہیں اب بھی رہی۔ اس کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ قائم ہوا مگر یہ اتحاد بھی وقتی ہنگاموں کے بعد سراسر بے نتیجہ رہا، وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ متحد ہو کر آواز بلند کرنا سرے سے کوئی کام ہی نہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم کو عام کیا جائے، ان کو باشعور بنایا جائے۔ مسلمانوں کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ اپنی داخلی اصلاح کر کے اپنے آپ کو مستحکم بنائیں۔ مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ زمانے کو سمجھیں اور حالات کی رعایت کرتے ہوئے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں ۔ ہمارے مسئلے کا حل مثبت عمل میں ہے نہ کہ متحد ہو کر احتجاج کرنے میں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader