سوال و جواب
Urdu book, p. 173
By Maulana Wahiduddin Khan
تو اس کا حق بلاشبہ افراد کو حاصل ہے۔ تاہم یہ دفاع بھی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ہونا چاہیے، نہ کہ مسئلہ میں مزید اضافہ کے لئے۔ اس سلسلہ میں دوسری قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ کچھ لوگ اگر کسی گاؤں پر حملہ کریں تو اس معاملہ میں انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں سوچ کر یہ جاننا چاہیے کہ یہ حملہ یک طرفہ طور پر بلاسبب ہوا ہے یا وہ کسی پیشگی کارروائی کے انتقام کے لئے ہوا ہے۔ اگر وہ انتقام کا معاملہ ہے تو اس کا حقیقی حل یہ ہے کہ انتقام کے سبب کو دور کیا جائے۔ ورنہ عملاً یہ ہوگا کہ ایک انتقام کے بعد دوسرا انتقام اور دوسرے انتقام کے بعد تیسرا انتقام لیا جاتا رہے گا اور اصل مسئلہ صرف بڑھتا رہے گا، وہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ سوال کہا جاتا ہے کہ جو مسلمان اللہ کے راستہ میں لڑتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہوگا اور اس کو جنت میں جگہ ملے گی۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ مسلم ماں بھی جنت میں جائے گی جس نے ایسے شہید کو جنم دیا؟ (ترنم ریاض ، نئی دہلی) جواب آخرت کا انعام کسی کونسی تعلق کی بنا پر نہیں ملتا۔ وہ ذاتی عمل کی بنیاد پر ملتا ہے۔ اگر کسی ماں نے اپنے بیٹے کی دینی تربیت کے لئے محنت کی اور اس کی محنت سے اس کا بیٹا سچا دیندار بنا تو اس قسم کے عمل کا ثواب ضرور ماں کو پہنچے گا۔ مگر محض نسلی تعلق کی بنا پر کسی مرد یا عورت کو کوئی ثواب ملنے والا نہیں۔ شہادت کے سلسلہ میں عرض ہے کہ مسلمان کسی کو شہید نہیں کے لفظ سے پکاریں تو ایسا کرنے سے کوئی شخص شہید نہیں بن جائے گا۔ شہادت کا تعلق تمام تر نیت سے ہے اور نیت کا حال صرف اللہ کو معلوم ہے۔ صرف اللہ یہ جانتا ہے کہ کون حقیقی معنوں میں شہید کا درجہ پانے کا مستحق ہے۔ اسی لئے امام بخاری نے اپنی صحیح میں کتاب الجہاد کے ایک باب کا عنوان (ترجمہ باب) ان الفاظ میں قائم کیا ہے: باب لا يقال فلان شہید (یہ نہ کہو کہ فلاں شہید ہے۔)۔ فتح الباری جلد ۶ صفحه ۱۰۵۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader