Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 181

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب قتال اسلام میں ایک مشروط حکم ہے نہ کہ کوئی مطلق حکم ۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ نماز روزہ کی طرح قتال بھی ہر حال میں جاری رکھنا ہے۔ قتال صرف اس وقت کے لئے ہے جب کہ کسی خارجی طاقت کی جارحیت کی بنا پر دفاع کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہو۔ اس دفاع کی بھی لازمی شرطیں ہیں۔ ان شرطوں کی تکمیل کے بغیر دفاعی قتال بھی جائز نہیں۔ اس معاملہ کی وضاحت اس سے پہلے الرسالہ میں آچکی ہے۔ جہاں تک اہل مغرب کا تعلق ہے ، ان کے مقابلہ میں ہمارا کام قتال نہیں ہے بلکہ دعوت ہے۔ عمومی طور پر سارے مسلمانوں کے لئے اور خصوصی طور پر یورپ اور امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے لئے فرض کے درجہ میں لازم ہے کہ وہ تمام ضروری آداب و شرائط کے ساتھ ان قوموں کو اسلام کا پیغام پہنچائیں ۔ یہ دعوتی کام پوری طرح پر امن انداز میں ہونا چاہئے۔ مؤثر دعوتی عمل کے لئے مسلمانوں پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وہ معتدل فضا قائم کریں جس کے اندر دعوت کا کام مطلوب انداز میں جاری ہو سکے۔ سوال آپ نے ۱۹۹۳ میں بابری مسجد کے مسئلہ میں جو دو نکاتی فارمولا پیش کیا تھا وہ بلاشبہ بہترین فارمولا تھا مگر اس کے اعلان کے لئے آپ نے صحیح وقت کا انتخاب نہیں کیا۔ ایک صحیح فارمولا غلط وقت کی وجہ سے وہ مقبولیت حاصل نہ کر سکا جس کی ضرورت تھی۔ (ایک قاری الرسالہ، ناگپور) جواب آپ کا یہ خیال درست نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس وقت میں نے اپنا یہ فارمولا پیش کیا ، وہی اس کو پیش کرنے کا موزوں ترین وقت تھا۔ اس قسم کے نازک اشو وقت گزرنے کے ساتھ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے اس قسم کے کسی مسئلہ پر اس کے عملی حل کا فارمولا پیش کرنے کا سب سے زیادہ صحیح وقت وہی ہوتا ہے جب کہ مسئلہ کا آغاز ہوا ہو۔ اس معاملہ میں دیر کرنا گویا کہ کام کے اصل موقع کو کھو دینا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page