سوال و جواب
Urdu book, p. 182
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ بابری مسجد کے حادثہ (۶ دسمبر ۲۰۰۲) پر دس سال گزر چکے ہیں اور ابھی بھی اس معاملہ میں کوئی مسلمان حقیقت پسندانہ فارمولا سننے کے لئے تیار نہیں۔ اگر ۱۹۹۲ میں یہ فارمولا قبل از وقت تھا تو اب ۲۰۰۲ میں اس کو بروقت ہو جانا چاہئے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اب بھی کوئی لیڈر اس کو پیش کرنے کے لئے سامنے نہ آسکا۔ اصل یہ ہے کہ اس قسم کے اختلافی مسائل وقت گزرنے کے بعد ہمیشہ ساکھ کا مسئلہ (prestige issue) بن جاتے ہیں۔ اس لئے بہترین پالیسی یہ ہے کہ ساکھ کا مسئلہ بننے سے پہلے اس کو حل کیا جائے۔ کیوں کہ ساکھ کا مسئلہ بننے کے بعد وہ حل ہونے والے ہی نہیں۔ سوالات ( روزنامہ ہندوستان، ممبئی) ۱- گجرات میں مسلمانوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے، عین ممکن ہے کہ فرقہ پرستوں کی اس کامیابی کے بعد دیگر ریاستوں میں بھی اسے دہرایا جائے۔ مسلمان ہنوز منتشر ہیں تو کیا سیاسی، سماجی، تہذیبی، معاشی گویا ہر سطح پر یہ بات مسلمانوں کے لئے نقصان دہ نہیں ہے، اگر ہے تو ان حالات میں مسلمان اب کیا کریں؟۔ ۲- گجرات یا ملک کے دیگر حصوں میں جب جب اور جہاں بھی فسادات ہوئے اور ہو رہے ہیں وہاں پر فرقہ پرستوں نے یہ نہیں دیکھا کہ کون دیوبندی، بریلوی، یا شیعہ اور اہل حدیث ہے بلکہ بنام مسلم سب کی جان و مال کو نقصان پہنچایا اور انہیں معاشی طور پر تباہ و برباد کیا، تو کیا اب بھی مسلکی اختلافات سے چپٹے رہنا مسلمانوں کے لئے نقصان دہ نہیں ہے؟ اگر ہے تو کیا اس کے لئے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھانا چاہئے؟۔ ۳- آج ملت اسلامیہ کی بقاء کا مسئلہ کھڑا ہے۔ ایسے حالات میں ملت اسلامیہ کی بقاء کیوں کر ممکن ہے؟ ۴- ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں سر گنے جاتے ہیں۔ اس بات کو سمجھتے ہوئے بھی ہم مسلکی اختلافات کی بنا پر بوقت الیکشن مختلف الرائے ہو کر اپنی صفوں کو کمزور اور غیروں کی صفوں کو مضبوط بنا دیتے ہیں، تو کیا یہ مفاد ملت کے خلاف نہیں ہے، اس سلسلہ میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟۔ ۵- یہود و نصاری مسلمانوں اور اسلام کے کٹر دشمن ہیں، قرآن و احادیث میں بھی اس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مگر ہمارے یہاں سب سے زیادہ اہمیت مسلکی اختلافات اور فرقہ بندی کو دی جاتی ہے۔ حضورؐ نے اپنی امت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader