سوال و جواب
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
جوابات ا۔ یہ بات سراسر خلاف واقعہ ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کی توہین کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ دوسرے مذاہب کو برا نہ کہا جائے۔ کیوں کہ اس سے مذاہب کے درمیان باہمی احترام کا ماحول ختم ہوتا ہے (الانعام ۱۰۸) اسی طرح یہ بات بھی سراسر بے بنیاد ہے کہ اسلام دوسری قوموں کی تحقیر کرتا ہے۔ اس کے برعکس ، قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے پیغمبروں نے اپنے غیر مسلم معاصرین کو ہمیشہ ”اے میری قوم‘‘ کہہ کر خطاب کیا (الأ اعراف (۵۹)۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے مطابق، دیگر اقوام کو نہ غیر قوم سمجھنا درست ہے اور نہ ان کے ساتھ برا سلوک کرنا جائز ہے۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق، کھلے دشمن کے ساتھ بھی نفرت کرنا جائز نہیں (فصلت ۳۴)۔ ایسی حالت میں صرف مذہبی فرق کی بنا پر نفرت کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ الف۔ یہ کہنا درست نہیں کہ اسلام میں مشرک کو عمومی طور پر نجس قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کی آیت انما المشركون نجس (التوبہ ۲۸) کا یہ مطلب نہیں۔ یہ آیت محدود زمانی مفہوم میں ہے۔ اس میں’’المشركون‘‘ سے مراد صرف عرب کے وہ قدیم مشرک ہیں جو پیغمبر ﷺ کے ہمعصر تھے۔ انہوں نے کسی حق کے بغیر یہ کیا تھا کہ حضرت ابراہیم کے تعمیر کیے ہوئے دار التوحید کو ظلماً دار الاصنام بنا دیا تھا۔ اس لئے رسول اللہ کے ان معاصر لوگوں کے بارے میں قرآن میں یہ حکم آیا کہ ..... یہ مشرکین نجس ہیں۔ اس لئے وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے نزدیک نہ آئیں (التوبہ ۲۸)۔ اسی طرح یہ بات بالکل غلط ہے کہ مشرکین کی بنائی ہوئی چیزوں کو چھونا اسلام میں نا جائز ہے۔ یہ سراسر بے بنیاد بات ہے۔ اس کی کوئی اصل اسلام کی تعلیمات میں نہیں۔ خود رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کی بنائی ہوئی چیزوں کو مس کیا ہے۔ حال میں کچھ لوگوں نے یہ’’فتویٰ‘‘ دیا کہ امریکہ کی مصنوعات کو مسلمان نہ خریدیں۔ یہ بلاشبہ ایک خود ساختہ فتویٰ ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بات بھی سراسر بے بنیاد ہے کہ اسلامی سلطنت میں غیر مسلموں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں۔ بین اقوامی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader