سوال و جواب
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
امور میں اسلام کا وہی مسلک ہے جو دوسری قوموں کا مروّجہ مسلک ہے۔ اس لئے آج اگر اسلامی ریاست قائم ہو تو اس میں غیر مسلموں کو وہی حقوق دیے جائیں گے جو اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق عالمی حقوق سمجھے جاتے ہیں (سیرت ابن ہشام، الجزاء ۲، ۲۷۴)۔ ب۔ اسلام انسانی برابری کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام میں کم تر انسان اور برتر انسان کا کوئی تصور نہیں۔ قرآن کی مدنی سورتوں میں بعض مقامات پر کافر یا کفار کا لفظ آیا ہے۔ مگر یہ لفظ خدا کی طرف سے ہے، نہ کہ اہل اسلام کی طرف سے۔ مثلاً نبوت کے تیرہویں سال قرآن میں یہ آیت اتری کہ: قل يا ايها الكافرون (الكافرون (١)۔ مگر رسول یا اصحابِ رسول نے کبھی اپنے ہم عصر غیر مسلموں کو ایہا الکافرون کہہ کر خطاب نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ و تابعین ایشیا اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے جہاں کی آبادی اُس وقت غیر مسلموں پر مشتمل تھی۔ مگر کسی بھی ملک میں انہوں نے یہ نہیں کیا کہ وہاں کے لوگوں کو ”اے کافرو“ کہہ کر خطاب کریں۔ اس کے برعکس انہوں نے یہ کیا کہ کوئی قوم اپنے آپ کو جو نام دیے ہوئے تھی اُسی نام سے اُس کو پکارا۔ مثلاً شام میں نصاریٰ، فلسطین میں یہود، ایران میں مجوس، چین میں بُوذا، ہندوستان میں ہندو، مصر میں قبطی، وغیرہ۔ ج۔ یہ بات سراسر بے بنیاد ہے کہ قرآن میں کافروں اور مشرکوں سے لڑنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ کافروں اور مشرکوں کے مقابلہ میں قرآن کا حکم اصلاً صرف ایک ہے اور وہ تبلیغ ما انزل اللہ (المائدہ ۶۷) ہے۔ یعنی خدا کی دی ہوئی تعلیمات کو انتہائی پر امن انداز میں لوگوں تک پہنچانا۔ اگر مخاطبین کی طرف سے اذیت رسانی ہو تب بھی پر امن رویہ پر قائم رہتے ہوئے پیغام رسانی کا کام جاری رکھنا۔ جہاں تک لڑائی یا جنگ کا تعلق ہے، اُس کی اجازت صرف اُس وقت ہے جب کہ اہل اسلام کے خلاف کھلی جارحیت کی جائے اور اُن کو مجبوارانہ دفاع کے تحت لڑنا پڑے۔ (البقرہ ۱۹۰، الحج ۳۹)۔ ہندو دھرم کے ماننے والوں کو کافر کہنا سراسر غیر اسلامی ہے، بلکہ وہ ایک گناہ کا فعل ہے۔ کافر سے مراد کوئی نسل یا گروہ نہیں۔ کافر کا مطلب ہے انکار کرنے والا۔ انکار کا تحقق صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ کسی گروہ پر دعوت کا پر امن عمل کیا جائے اور اُس کو تمام ضروری شرائط کی ادائیگی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader