سوال و جواب
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
قبولیت قیادت ہے۔ ہمارے یہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ان افراد کے گرد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے جو ہائی پروفائل میں بولتے ہوں، حالاں کہ دانش مند ہمیشہ لو پروفائل میں کلام کرتا ہے۔ اسی طرح باہمی نزاعات میں لوگ اکثر آئیڈیل سلوشن کی بات کرنے لگتے ہیں حالاں کہ اس طرح کے معاملات ہمیشہ پریکٹیکل سلوشن کے ذریعہ طے ہوتے ہیں۔ اسی طرح آپ دیکھیں گے کہ اکثر لوگ قومی معاملات میں بولتے یا لکھتے ہیں تو وہ غیر مفاہمانہ انداز میں کلام کرتے ہیں۔ حالاں کہ یہی لوگ خود اپنے ذاتی مسائل کو مفاہمت اور مصالحت کے ذریعہ حل کرتے ہیں۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ ذاتی معاملہ میں آدمی کی جبلت (instinct) ہی رہنمائی کے لئے کافی ہے جو ہر ایک کو حاصل ہوتی ہے مگر ملی اور قومی معاملات میں مفاہمت اور مصالحت کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے اعلیٰ شعور درکار ہے جو ایک کم تعلیم یافتہ معاشرہ میں لوگوں کو حاصل نہیں ہوتا۔ سوال میں ماہنامہ الرسالہ کا ریگولر قاری ہوں ۔ مجھے آپ کی یہ بات بہت پسند ہے کہ آپ ہمیشہ ناامیدی کے حالات میں امید کا پہلو تلاش کرتے ہیں ۔ مایوسی کے حالات میں ہمت اور عزم پیدا کرنے والی بات کرتے ہیں۔ مگر مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان آپ کی مخالفت کیوں کرتے ہیں ۔ دوسرے لوگ جو مسلمانوں کو یہ بتاتے ہیں کہ انڈیا میں اور دنیا بھر میں لوگ مسلمانوں کو مٹانا چاہتے ہیں ان کی باتیں مسلمان خوب شوق سے سنتے ہیں مگر آپ مسلمانوں کو خوش خبری دیتے ہیں تو مسلمانوں کو آپ کی بات اچھی نہیں لگتی۔ ایسا کیوں ہے؟۔ (محمد اصغر، نئی دہلی) جواب آپ کے اس سوال پر مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ ایک بار میں بی بی سی لندن (ہندی) سن رہا تھا۔ انہوں نے پروگرام کے مطابق، ماریشس میں مقیم ایک ہند و کا خط پڑھ کر سنایا۔ خط میں شکایت کی گئی تھی کہ بی بی سی لندن اپنے ہندی پروگرام میں ہندی بولنے والے علاقہ کی خبریں دیتا ہے مگر اس کے ہندی پروگرام میں کبھی ماریشس کی کوئی خبر نہیں آتی۔ حالاں کہ ماریشس میں ہندی بولنے والے بڑی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader