Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال آپ نے الرساله ماه جون ۲۰۰۲ء میں لکھا ہے کہ: اسی طرح گجرات میں جن لوگوں نے جگہ جگہ خونی فساد کیا وہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے غیر تعلیم یافتہ لوگ تھے، نہ کہ ہندو۔ یہ لوگ اگر تعلیم یافتہ ہوتے تو ایسا واقعہ کبھی پیش نہ آتا (صفحہ ۲۶) واقعہ یہ ہے کہ آج دنیا میں سارا فساد تعلیم یافتہ لوگوں ہی کی وجہ سے ہے۔ اس لئے اس طالب علم کا قول ہے: Education without ethics is an evil. (ابن غوری، نلکنڈا) جواب تعلیم یافتہ سے ہماری مراد ڈگری یافتہ نہیں ہے، بلکہ شعور کا مالک ہونا ہے۔ اصل یہ ہے کہ جس سماج میں لوگ پڑھنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں وہاں ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے، یعنی مصلحین اور عام لوگوں کے درمیان فکری بُعد (intellectual gap) - ہمیشہ اور ہر دور میں مصلحین ہوتے ہیں لیکن اگر سماج میں تعلیم عام نہ ہو تو لوگ ان مصلحین کی باتو ں سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ اس بنا پر سماج میں تربیت شعور کا عمل رک جاتا ہے یہی خاص حکمت ہے جس کی بنا پر تمام اعلیٰ دماغ لوگ عمومی تعلیم کو بے حد اہمیت دیتے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تعلیم کا مقصد جاب (job) حاصل کرنا ہے۔ میرے نزدیک جاب کا مسئلہ ثانوی اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرہ کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہاں مصلحین ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو کسی بات کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ سکیں۔ جب کہ بے پڑھے لکھے سماج میں ایسے افراد موجود نہیں۔ غیر تعلیم یافتہ سماج میں لوگ ایک چیز اور دوسری چیز کا فرق نہیں سمجھتے۔ وہ معاملات کا گہرا تجزیہ نہیں کر سکتے۔ مثلاً اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں میں اصل قیادت کا فقدان ہے۔ حالاں کہ یہ ایک غیر واقعی بات ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں میں اصل مسئلہ فقدان قیادت نہیں ہے بلکہ فقدانِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page