سوال و جواب
Urdu book, p. 210
By Maulana Wahiduddin Khan
کی جائے تو وہ خوب خوش ہوگی اور بلا ثبوت بہو کے خلاف باتوں کو مان لے گی۔ ٹھیک یہی معاملہ برعکس طور پر بہو کے بارے میں بھی درست ہے۔ موجودہ مسلمانوں کی یہی کمزوری ہے جس کی بنا پر ان کا حال وہ ہو گیا ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو وہ اس کو نہ اپنائیں گے اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھیں تو وہ اس کو اپنا لیں گے (الاعراف ۱۳۶) سوال میں نے عالمی تاریخ کی کچھ کتابیں پڑھیں اور کچھ مورخین کے تبصرے پڑھے۔ ان کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے پوری انسانی تاریخ شورش اور ہنگاموں کی تاریخ ہے۔ تاریخ میں بہت کم ایسے لمحات ملتے ہیں جب کہ پر سکون اور معتدل ماحول میں انسان کو جینے کا موقع ملا ہو۔ تاریخ کے اس منظر کو دیکھ کر کچھ لوگ خدا پر شک کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا اگر عادل ہے تو اس کی بنائی ہوئی دنیا میں اتنا زیادہ بگاڑ کیوں؟ براہ کرم اس سوال پر روشنی ڈالیں۔ (عبدالرحمن، ناندیڑ) جواب دنیا کے بارے میں مذکورہ سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ اس کو انسان کی نظر سے دیکھا جائے۔ لیکن اگر دنیا کو خالق کی نظر سے دیکھا جائے تو نہایت آسانی سے اس کا جواب مل جاتا ہے اور یہ یقین ہو جاتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہی ہونا چاہیئے تھا۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے ہمیں یہ جاننا چاہیئے کہ موجودہ دنیا کے بارے میں خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan) کیا ہے۔ قرآن کے مطابق ، وہ تخلیقی نقشہ امتحان (test) کے اصول پر مبنی ہے۔ موجودہ دنیا میں خدا نے انسان کو اس لئے نہیں بسایا کہ وہ یہاں عیش کرے۔ عیش کی زندگی انسان کو اس کے عمل کے مطابق ، آخرت میں ملے گی۔ موجودہ دنیا کا سارا نظام اس ڈھنگ پر بنا ہے کہ ہر انسان اور ہر گروہ امتحان کی کسوٹی پر آ سکے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ معتدل حالات میں کسی انسان کی اصل حقیقت کا پتہ نہیں چلتا۔ لوگ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader