Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

خوبصورت لفظوں اور خوشنما کپڑوں میں اپنے آپ کو چھپائے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں لوگوں کو (expose) کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان کی زندگی میں اضطراب (disturbance) لایا جائے ۔ اس معاملہ میں انسان کی مثال انڈے جیسی ہے۔ اوپر سے دیکھنے میں ہر انڈا اچھا ہی معلوم ہوتا ہے۔ جب انڈوں کو توڑا جائے اس وقت یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون انڈا اچھا تھا اور کون انڈا خراب۔ اللہ تعالیٰ کو اس دنیا میں سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ امتحان ہے اور امتحان کے لئے غیر معمولی حالات کا پیش آنا لازمی ہے۔ اس لئے بار بار ہر فرد اور گروہ کی زندگی میں غیر معمولی حالات پیدا کئے جاتے ہیں تا کہ یہ معلوم ہو کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ کیسا تھا۔ وہ حقیقی معنوں میں حق پرست تھا یا اس نے صرف ظاہری طور پر حق کا نمائشی خول اپنے اوپر ڈال لیا تھا۔ سوال کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا ایک ہوگئی ہے۔ اس کا خوبصورت نام گلوبلائزیشن ہے۔ مگر جیسا کہ بہت سے علماء نے لکھا ہے کہ یہ ایک فتنہ ہے۔ مغرب کی مسلم دشمن طاقتیں گلوبلائزیشن کے نام پر اسلام کو اپنے جال میں پھنسا لینا چاہتی ہیں۔ اس نئے خطرہ کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟۔ (ایک قاری الرساله، نئی دہلی) جواب گلوبلائزیشن میرے نزدیک فتنہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک عظیم نعمت ہے۔ گلوبلائزیشن سے مراد یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں کمیونیکیشن اور دوسرے ذرائع اتنا زیادہ وسیع ہو گئے ہیں کہ ساری دنیا ایک گاؤں (global village) کی مانند ہوگئی ہے۔ یہ صورتِ حال ایک عظیم موقع ہے۔ اس دنیا میں خدا نے ہر ایک کو آزادی دی ہے۔ اس لئے دوسرے لوگ اگر اس کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کریں تو آپ کو ان کے خلاف احتجاج کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے احتجاج سے یہ نہیں ہوسکتا کہ دوسرے لوگ ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چھوڑ دیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page