Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

تاہم بعد کے زمانہ میں ایک غلط مسئلہ مسلمانوں میں پھیل گیا اور وہ یہ کہ جو شخص رسول کی اہانت کرے یا اسلام کی اہانت کرے اس کو قتل کر دیا جائے ۔ اس مسئلہ کی بنا پر کچھ لوگوں کا قتل بھی ہوا۔ مگر یہ مسئلہ بذات خود غلط ہے۔ اس کی کوئی اصل قرآن یا حدیث میں نہیں۔ اس مسئلہ کی ذمہ داری بعد کے دور کے کچھ مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ خود اسلام پر۔ اس معاملہ میں شرعی حکم کو سمجھنے کے لئے آپ راقم الحروف کی کتاب ’’شتم رسول کا مسئلہ‘‘ مطالعہ فرمائیں۔ سوال آج ایسے قائد کی اشد ضرورت ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کر سکے۔ آپ کی کئی کتابیں اور الرسالہ کا مسلسل مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قیادت کے لائق صرف آپ کی شخصیت ہی ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کی احسن طور پر رہنمائی کر سکتی ہے۔ بشرطیکہ علماء کرام اور دانشوروں کا طبقہ ’’بغيابينهم‘‘ کے مرض سے دور ہو جائیں (ثار احمد خان سلفی، امام و خطیب مسجد اہل حدیث، مومن پورہ، ناگپور) جواب قیادت کا مسئلہ نامزدگی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ قبولیت کا مسئلہ ہے۔ کوئی شخص قائد اس وقت بنتا ہے جب کہ لوگوں کی اکثریت اس کو اپنے قائد کے طور پر قبول کرلے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ابوالکلام آزاد اور محمد علی جناح دونوں ایک ہی زمانہ سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں نے مسلمانوں کے اندر کام کیا اور ان کو منظم کرنے کی کوشش کی۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ مسٹر محمد علی جناح مسلمانوں کے قائد بن گئے، لیکن ابوالکلام آزاد عملاً مسلمانوں کے قائد نہ بن سکے۔ اس کا سبب سادہ طور پر صرف یہ تھا کہ مسلمانوں نے اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر محمد علی جناح کو قبول کر لیا اور ابوالکلام آزاد کو قبول کرنے کے لئے وہ تیار نہ ہو سکے۔ یہی معاملہ ساری مسلم دنیا کا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ شعوری اعتبار سے کچڑی ہوئی قوم بن گئے ہیں۔ ان میں جب تک شعوری بیداری نہ لائی جائے، کسی صالح قیادت کا ان کے اندر ابھر نا ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page