Urdu book · سوال و جواب

سوال و جواب

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں ذہین لوگوں کے لئے گنجائش نہیں ہے۔ یہ سوال اس لئے ذہین میں پیدا ہوا کہ میں دیکھتا ہوں کہ ماضی میں اور حال میں بھی ذہین یا منطقی لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کیا گیا۔ مثلاً ماضی میں سید شہاب سہروردی کو قتل کر دیا گیا جب کہ وہ ابھی صرف ۳۷ سال کے تھے۔ مگر بہت ذہین انسان تھے۔ ابن رشد کو جیل میں ڈالا گیا۔ رازی، فارابی اور بو علی سینا پر کفر کا فتویٰ لگا کر ان کو ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہمارے یہاں سرسید احمد خاں کی تکفیر کی گئی اور انہیں ذلیل کہا گیا۔ ڈاکٹر اقبال پر بھی کفر کا الزام لگایا گیا۔ بو علی سینا نے بھی اپنے ایک فارسی قطعہ میں کہا ہے کہ یہاں رہنا ہے تو گدھا بن کر رہو اگر عقلمند بنو گے تو پھر خیرنہیں۔ کیا اسلام میں ایسے ہی لوگوں کی گنجائش ہے جو منطقی نہ ہوں، استدلالی نہ ہوں، اپنی عقل وفہم کی روشنی میں حیات وکائنات کو سمجھنے کی کوشش نہ کرتے ہوں۔ (احساس آفاقی، گُرلا، ممبئی) جواب آپ نے چند مثالوں کو لے کر ان کو جزلائز کر دیا ہے۔ حالانکہ واقعہ ایسا نہیں ہے۔ اسلام میں فکری آزادی کو بہت بڑا درجہ دیا گیا ہے۔ اس معاملہ کی تفصیل کے لئے آپ میری کتاب دین انسانیت کا باب ’’حریت فکر‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔ انشاء اللہ آپ کی غلط فہمی دور ہو جائے گی۔ قرآن میں بار بار اہل عقل کو خطاب کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ خود قرآن کے نزول کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ عقل والے اس پر غور کریں (ص ۲۹)۔ چنانچہ ہر دور میں عقلی غور وفکر کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ آپ نہج البلاغہ کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ حضرت علی کتنا زیادہ عقلی غور فکر کو پسند کرتے تھے۔ عباسی خلافت اور اسپین کی اموی خلافت کے دور میں عقلی غور وفکر کی زبردست حوصلہ افزائی ہوئی جس کی تفصیل آپ فلپ ہٹی کی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں دیکھ سکتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں فخر الدین رازی کی ضخیم تفسیر اور موجودہ زمانہ میں جوہری طنطاوی کی مفصل تفسیر قرآن کی عقلی تشریح کی مثالیں ہیں۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ خاص اسی مقصد کے لئے لکھی۔ خود راقم الحروف نے تقریباً چالیس سال سے اسلام کی عقلی اور سائنسی تشریح کو اپنا موضوع بنایا ہے اور اس پر سو سے زیادہ کتابیں شائع کی ہیں مگر ساری مسلم دنیا میں کسی بھی شخص نے اس پہلو سے میری مخالفت نہیں کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page