دیباچہ
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب اس معاملے میں اسلام میں کوئی واحد متعین طریقہ نہیں ہے۔ قرآن یا حدیث میں سیاسی معاملات کے بارے میں صرف بنیادی یا اساسی تعلیمات موجود ہیں۔ مزید یہ کہ اسلام میں چار خلیفہ کو معیاری مانا گیا ہے۔ مگر چاروں کے معاملہ میں انتخاب کا طریقہ الگ الگ تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں سیاسی سسٹم کا معاملہ نماز جیسا نہیں ہے۔ نماز کا ایک معلوم اور متعین طریقہ ہے مگر ٹھیک اسی طرح سیاست کا کوئی واحد مقرر سسٹم نہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اسلام میں سیاسی معاملات کے بارے میں کافی آزادی دی گئی ہے۔ قرآن و حدیث سے سیاست کے بنیادی اصول کو لے کر ہم اپنے حالات کے لحاظ سے اس کا آزادانہ نقشہ بنا سکتے ہیں۔ جب تک اسلام کی کسی تعلیم کی کھلی خلاف ورزی نہ ہو حالات کی مطابقت سے بنایا ہوا ہر ڈھانچہ اسلامی ڈھانچہ ہوگا۔ سوال ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے مولانا ابو الکلامی مودودی کے خلاف کتاب اس لئے لکھی کہ انھوں نے آپ کے اعتراضات کا جواب نہیں دیا۔ لیکن آپ نے بھی تو ایسا ہی کیا۔ آپ کے خلاف تنقیدیں چھپتی ہیں مگر آپ ان کا جواب نہیں دیتے۔ (محمد خالد ندوی، دہلی) جواب ایک صورت یہ ہے کہ معترض خط کی صورت میں براہ راست اپنا اعتراض لکھ کر بھیجیے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنا اعتراض یا تنقید اخبار اور رسالے میں شائع کرے۔ علما اسلام کا مسلک یہ ہے کہ وہ براہ راست کئے گئے اعتراض کا جواب تو دیتے ہیں مگر چھپنے والے اعتراض کے بارے میں زیادہ تر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ میرا مسلک بھی یہی ہے۔ مولانا مودودی کو میں نے کتاب چھپنے سے پہلے اپنے اعتراض لکھ کر بذریعہ ڈاک بھیجے تھے مگر اصرار کے باوجود انھوں نے جواب نہیں دیا۔ اس بنا پر دونوں معاملہ یکساں نہیں۔ خط کے ذریعہ موصول ہونے والے اعتراض کا جواب میں ہمیشہ دیتا ہوں۔ مگر چھپے ہوئے مضمون کا جواب صرف اس وقت دیتا ہوں جب کہ وہ سب وشتم نہ ہو بلکہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader