دیباچہ
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی تحریک کو خفیہ مدد پہنچائے تو اس بنا پر وہ اسلامی جہاد نہیں ہو جائے گا۔ اس حکومت کو کھلے طور پر اس کا اعلان کرنا پڑے گا۔ اعلان کے بغیر خفیہ جنگ چھیڑ نا بذات خود جائز نہیں۔ سوال نفاذ اسلام کی تحریکیں موجودہ دور میں کیوں ناکام ہو رہی ہیں؟۔ ( پیر محمد امین ترہگام ، کشمیر ) جواب اس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ اسلامی قانون کے نفاذ کی تحریک چلانے والے رہنما ، ایک قدیم مثل کے مطابق ، گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا چاہتے ہیں۔ نفاذ شریعت کے سلسلہ میں پہلا کام یہ ہے کہ سیاسی تحریک چلانے سے پہلے فکری تحریک چلائی جائے ۔ لوگوں کی ذہنی اصلاح کر کے ان کے اندر قبولیت کا مادہ پیدا کیا جائے اور جب لوگوں میں قبولیت کا مادہ پیدا ہو چکا ہو اس کے بعد قانون کا نفاذ کیا جائے ۔ رسول اللہ ﷺ نے عرب میں یہی تدریجی طریقہ اختیار فرمایا ۔ موجودہ زمانہ کا نام نہاد انقلابی طریقہ اسلامی طریقہ نہیں۔ وہ مارکس اور لینن کی تقلید ہے نہ کہ پیغمبر اسلام کی تقلید۔ موجودہ قسم کی ہنگامہ آرائیوں سے نہ اسلامی قانون نافذ ہوا ہے اور نہ وہ آئندہ کبھی نافذ ہو سکتا ہے۔ اس قسم کی تحریکیں اسلام کی خدمت نہیں ہیں بلکہ وہ صرف اسلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ ہیں۔ سوال اسلام کا پولیٹیکل سسٹم کیا ہے۔ اسلام میں ریاست کا ہیڈ کس طرح مقرر کیا جائے گا؟۔ اگر شوریٰ کے ذریعہ صدر ریاست کا انتخاب ہو تو اس انتخاب کا طریقہ کیا ہے۔ امریکہ کے مسلمانوں میں اس معاملہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جو مسلمان جس ملک سے یہاں آئے ہیں وہ اپنے ہی ملک کے رائج اسلامی تعبیر کے مطابق اس کا جواب دیتے ہیں۔ اس معاملہ میں صحیح بات کیا ہے؟ ( ڈاکٹر غنی خاں ، میامی، امریکہ )

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader