Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کے اسلامی مدرسوں میں تشدد اور علیحدگی پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس طرح وہ ملک میں منفی رول ادا کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں ان مدرسوں کو باقی رکھنے کا کیا جواز ہے؟ (محمد عمران، راشٹریہ سہارا، دہلی) جواب یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ملک میں تشدد پسندی اور علیحدگی پسندی کا رجحان ہے مگر وہ زیادہ تر سیاسی لیڈروں کا پیدا کردہ ہے، ان کا مدرسوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ان مدرسوں میں دین اور اخلاق کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان مدرسوں میں ایسے لوگ تیار کئے جاتے ہیں جو اصول پسند اور با کردار ہوں اور اسی کے ساتھ وہ سماج میں مارل ٹیچر بن کر رہ سکیں۔ میں خود مدرسہ کے اسی تعلیمی نظام کا پیدااوار ہوں اور میں پورے اعتماد کے ساتھ اس قسم کے الزام کی تردید کر سکتا ہوں۔ سیاست اور ٹی وی یہ دو چیزیں لوگوں کے کردار کو بری طرح تباہ کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں مدرسہ کے نظام کو مزید طاقتور کرنے کی ضرورت ہے تا کہ وہ موجودہ اخلاقی بگاڑ کے سیلاب کو روک سکیں۔ سوال ھدایہ کا ایک جز یہ ہے قتال الكفارو واجب وان لم يبدونا (کفار سے قتال واجب ہے اگر چہ وہ ہم سے قتال کی ابتدا نہ کریں) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام اور اہل کفر کے درمیان تعلق کی دائمی نسبت محاربہ کی ہے اور اہل کفر سے اہل ایمان کو جنگ کرنا مطلقا واجب ہے۔ اسی طرح کی بات امام ابن القیم نے زاد المعاد میں جہاد کے سلسلہ میں بحث کرتے ہوئے اور سید قطب شہید نے اپنی مشہور کتاب معالم فی الطریق میں اسی کو بنیاد بنا کر ایک لمبی بحث لکھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات علمی اور شرعی طور پر ثابت ہے؟ (غطریف شہباز ندوی، ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی) جواب دائمی محاربہ کا نظریہ نہ قرآن کی کسی براہ راست نص میں ہے اور نہ حدیث میں۔ وہ تمام تر کچھ فقہا اور علماء کے قیاس پر مبنی ہے اور دائمی محاربہ جیسا سنگین مسئلہ صرف نص صریح سے ثابت ہونا چاہئے نہ کہ قیاس سے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page