دیباچہ
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
مثال کے طور پر قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کفار و مشرکین جب تک تم سے سیدھے( پر امن) رہیں تم بھی ان سے سیدھے (پرامن) رہو(التوبہ ۷) قرآن کی یہ آیت واضح طور پر مذکورہ نظریہ سے ٹکراتی ہے۔ اسی طرح ایک متفق علیہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ دشمن سے مڈ بھیڑ کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ سے عافیت مانگو (لا تمنوا لقاء العدو واسالوا الله العافية) یہ حدیث بھی واضح طور پر مذکورہ نظریہ کی تردید ہے۔ مزید یہ کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ تم سے آسانی چاہتا ہے (البقرہ ۱۸۵) اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ دین آسان ہے (الدین یسر) مگر مذکورہ نظریہ دین کو نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک جدید مثال کمیونزم ہے۔ اس کو بھی ابدی محاربے کے نظریہ پر قائم کیا گیا تھا مگر تقریباً سوسال کے تجربہ کے بعد وہ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ اگر ابدی محاربہ اسلام کا حکم ہو تو یہ نعوذ باللہ اسلام کو غیر ابدی قرار دینے کے ہم معنی ہوگا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے لئے اس دنیا میں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے۔ ہلاکت یا منافقت۔ یعنی یا تو وہ ساری دنیا میں غیر مسلم قوموں سے لڑ کر اپنے کو ہلاک کرتے رہیں یا ابدی محاربہ کا عقیدہ رکھتے ہوئے ظاہری طور پر مصالحت کی روش اختیار کر لیں جس کا دوسرا نام منافقت ہے۔ سوال آپ نے اپنی متعدد تحریروں میں تقسیم ہند کو ایک غلط فیصلہ قرار دیا ہے۔ آپ کے نزدیک تقسیم ہند کی تحریک نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے بیچ مطلوب دعوتی تعلق کو نقصان پہنچایا ہے ۔ دونوں قومیں اسی تحریک کے باعث ایک دوسرے سے نفرت کرتی ہیں۔ ہم یہ بات تسلیم کر سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے پچاس سال بعد اس بحث کا فائدہ کیا ہے۔ کیا تاریخ کے پہیہ کو الٹا گھمایا جا سکتا ہے؟۔ (طالب محسن ، لاہور ) جواب پاکستان کے بیشتر لکھنے اور بولنے والے بنگلہ دیش پر اور بنگلہ دیش کی قیادت پر تنقید کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کا مقصد یہ نہیں کہ بنگلہ دیش کے معاملہ میں تاریخ کے پہیے کو الٹا گھمایا جائے۔ اس قسم کی تنقیدوں کا مقصد صرف اس ذہنیت پر تنقید ہوتا ہے جس نے بنگلہ دیش کو بنوایا۔ اسی طرح پاکستان کے بارے میں میں نے جو کچھ لکھا ہے اس کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader