Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 1

By Maulana Wahiduddin Khan

دیباچہ زیر نظر کتاب راقم الحروف کی ان تحریروں کا مجموعہ ہے، جو ماہنامہ الرسالہ میں سوال وجواب کے کالم کے تحت چھپتے رہے ہیں۔ اس مجموعہ کو برادرم اصطفاء علی صاحب نے کولکا تاٹیم کے تعاون کے سے تیار کیا ہے، اور کولکاتا ٹیم اپنے اہتمام کے ساتھ اس کو شائع کر رہی ہے۔ ان لوگوں کی یہ کوشش بلا شبہ ایک مستحسن کوشش ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی کولکاتا ٹیم کو اس کام کے لئے جزائے خیر عطا فرمائے، اور اس کے پڑھنے والوں کے لئے یہ مجموعہ ان کی زندگی کے لئے مفید ثابت ہو۔ آمین سوال وجواب کا طریقہ بہت قدیم طریقہ ہے۔ یہ طریقہ اپنے اندر بہت سے فوائد رکھتا ہے۔ سوال کرنے والے کے لئے بھی، اور جواب دینے والے کے لئے بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ سوال وجواب ایک باہمی تعلم (mutual learning) کا طریقہ ہے۔ اس طریقے میں سائل اور مجیب دونوں کے لئے یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ مزید مطالعہ کے ذریعہ اپنے علم میں اضافہ کریں۔ وہ زیر بحث مسئلے کے نئے گوشوں کو دریافت کریں ۔ اس طرح یہ طریقہ طرفین کے لئے فکری ارتقاء (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔ اسلام میں سوال کے بجائے تدبر اور تفکر پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت خضر کے ساتھ حضرت موسیٰ جب سفر پر روانہ ہوئے تو حضرت خضر نے حضرت موسیٰ سے کہا : فَلاَ تَسْئَلْنِي عَنْ شَيْءٍ (18:70)۔ یعنی تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرنا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوال نہ کرو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن میں کوئی سوال آئے تو پہلے غور و فکر کرو۔ غور و فکر کر کے آدمی پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرتا ہے۔ سوال و جواب وہی شخص درست طور پر سمجھتا ہے، جو پہلے سے اپنے آپ کو ایک تیار ذہن (prepared mind) بنا چکا ہو۔ اس حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک صحابی کہتے ہیں : وعن کثرة السؤال (مسند احمد، حدیث نمبر 18232)۔ یعنی رسول اللہ نے ہم کو زیادہ سوال سے منع کیا تھا۔ سوال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page