Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

کی کثرت سے منع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی سوال نہ کرے ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پہلے خود سوال کے تقاضے کو پورا کرے ، اس کے بعد وہ سوال کرے ۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے آدمی خود غور و فکر کرے ۔ اس طرح اس کو ذہنی ارتقاء (intellectual development) کا فائدہ حاصل ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیت پیدا کی ہے ۔ یہ صلاحیت غور و فکر سے بڑھتی ہے۔ اپنے ذہن کو ترقی دینے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعہ اپنے ذہن کو تیار کرتا رہے۔ وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ اخذ (grasp) کی صلاحیت پیدا کرے ۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ کوئی شخص اس کے سوال کا جواب دے تو وہ اپنی طرف سے اس میں کچھ اضافہ کر سکے۔ حقیقی سائل وہ ہے جو جواب کو سن کر اس میں اپنی طرف سے اضافہ کر سکتا ہو۔ مذکورہ حدیث کا مطلب اگر لفظ بدل کر بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا ....... سوال کیوں کرتے ہو۔ اگر تمہارے ذہن میں کوئی سوال آیا ہے تو پہلے خود اپنے ذہن کو استعمال کر کے اس کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرو۔ سوال کو صرف سوال نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بناؤ۔ بات کو سن کر فورا ً سوال کرنا ، عجلت پسندی کی علامت ہے ۔ بات کو سن کر پہلے غور و فکر کرنا چاہئے ۔ اگر غور و فکر سے وہ بات تک نہ پہنچے تو سمجھنا چاہئے کہ اس نے اپنے ذہن کو تیار کرنے میں کمی کی ہے۔ اس کی توجہ اس پر ہونی چاہئے کہ وہ اپنے ذہن کو مزید تیار کرنے کی کوشش کرے۔ وحید الدین نئی دہلی، 4 جنوری 2017

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page