Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح مسلم کی ایک روایت میں اس کو جسر (پل) جیسا معاملہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک طوفانی دریا کے اوپر پل ہو اور آپ اس پل سے گزریں تو آپ دریا کی ہولناک موجوں کو دیکھیں گے لیکن آپ اس کے اوپر سے صحیح و سلامت گزر جائیں گے۔ سوال آپ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ آج ہمارے لئے یہ موقع ہے کہ ہم آزادی کے ماحول میں اسلامی دعوت کا کام کرسکیں۔ مگر واقعات اس کے برعکس تصور پیش کرتے اوروں کے ناموں میں اعلانِ ووٹ نام | نام | روادارات اس کے برعکس زریے میں ہیں۔ کوسوو ، بوسنیا ، سیریا ، مصر ، عراق ، برما ، کشمیر ، امریکہ ، میں کیا ہو رہا ہے۔ ہر جگہ مسلمان ظلم و زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ان کے ساتھ ہر طرح کی زیادتیاں کی جارہی ہیں ۔ پھر مذہبی آزادی کہاں ہے ؟۔ یہ سوال ہم کو بذریعہ انٹرنیٹ مائیکل شمدت ( Michael Schimidt ) کی طرف سے موصول ہوا ہے۔ جواب اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ جن ملکوں میں مسلمانوں کو مذہبی زیادتی کا سامنا پیش آرہا ہے وہاں یہ مسئلہ کب سے پیدا ہوا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کی طرح ان ملکوں میں بھی مسلمانوں کو مکمل امن اور آزادی حاصل تھی ۔ اس کے بعد ان کے درمیان کچھ عاقبت اندیش لیڈر اٹھے جنھوں نے جذباتی نعروں کے ذریعہ مسلمانوں کو بھڑکایا اور انھیں مقامی حکمرانوں سے ٹکرا دیا۔ جب ایسا ہوا تو اس کے بعد وہ مسائل پیدا ہوئے جن کو آپ مذہبی زیادتی کے مسائل کہتے ہیں۔ مذکورہ ملکوں میں سے ہر ملک کا معاملہ یہی ہے۔ ان مقامات پر مسلمانوں کو یہ کرنا تھا کہ وہ ملک اور مال کے نام پر سیاسی جنگ نہ چھیڑتے ۔ وہ ملی ہوئی آزادی کو استعمال کرتے ہوئے دعوتی اور تعمیری کام کرتے تو یقینی طور پر انھیں زیادتیوں کا شکار نہ ہونا پڑتا جن کا ذکر آپ اخباروں میں دیکھتے ہیں۔ مذکورہ سوال میں امریکہ کی مثال بھی دی گئی ہے ۔ مسائل کے نزدیک وہاں کے مسلمان میڈیا کے شدید مخالفانہ پروپیگنڈوں کا شکار ہو رہے ہیں :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page