Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ سماجی امن کا راز کلچرل یکسانیت میں نہیں بلکہ کلچرل تنوع کو تسلیم کرنے میں ہے۔ اس مسئلہ کا حل کا درست اور قابل عمل فارمولا صرف یہ ہے : ایک کی پیروی اور سب کا احترام Follow one and respect all : سوال (1) قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ”کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو“ (بنی اسرائیل) اس آیت کو اگر اس کے سادہ معنوں میں لیا جائے تو اب تک جتنی آیات الہی کائنات میں ڈسکور (discover) ہوئی ہیں جو کہ پہلے لا معلوم تھیں وہ ڈسکور نہ ہوتیں۔ یا پھر اس آیت کا کیا مطلب ہے۔ (۲) قرآن میں ہے : ”تم میں کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر وارد نہ ہو“ (مریم اے) کیا اس آیت سے کوئی مستثنیٰ نہیں حتیٰ کہ پیغمبر اور صحابہ بھی۔ (عبد الشکور انجینئر، چمن، بلوچستان ) جواب ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا علم نہیں (بنی اسرائیل ۳۶) اس آیت کا تعلق کائنات سے نہیں ہے بلکہ انسان سے ہے۔ جہاں تک کائناتی حقیقتوں کا معاملہ ہے ان کا حکم دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے نہ کہ اس آیت سے۔ قرآن میں کثرت سے اس پر ابھارا گیا ہے کہ کائنات کی نشانیوں پر غور کرو۔ حتیٰ کہ کائنات میں غور وفکر کو ایمان کی ایک صفت قرار دیا گیا ہے اور وہ اسلام میں بے حد مطلوب ہے۔ اس سے مومن کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ جہاں تک سورہ بنی اسرائیل کی مذکورہ آیت کا تعلق ہے، وہ ایک اخلاقی ہدایت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے معاملے میں حسن ظن سے کام لو۔ بدگمانی کا شکار ہو کر غیر ضروری ٹوہ میں نہ لگو۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دوسری جگہ تجسس کہا گیا ہے اور اسکو سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے (الحجرات ۱۲) سورہ مریم (آیت ۷۱) میں آخرت کے جس تجربہ کا ذکر ہے اس کی تشریح تذکیر القرآن میں دیکھی جاسکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں ورود کا مطلب دخول نہیں بلکہ اس کا مطلب مرور ہے۔ یعنی تمام لوگ جہنم کے اوپر سے گزریں گے، نہ کہ وہ اس کے اندر داخل ہوں گے۔ چنانچہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page