دیباچہ
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
بات کا ہے کہ آخر آپ اپنے ہم عصروں کی فکر کی زد سے کیسے نکل آئے جب کہ آج بھی ان لوگوں کی فکر مسلمانوں کے اوپر حکمران ہے۔ یہی بات آپ کی ذہانت کی دلیل ہے۔ آپ جیسے زیرک حضرات کا آج فقدان ہے اور خدا سے دعا ہے کہ آپ جیسے لوگوں کو نوبل انعام سے نوازا جائے۔ میں علامہ اقبال کا admirer رہا ہوں اور ان کی فکر پر تنقید کو طفلانہ سمجھتا تھا مگر آپ کی بے لاگ تنقید نے علامہ کی فکر کا جائزہ لینے میں بڑی مدد کی ہے۔ میں اب بتدریج Idealism سے Realism کی طرف آ رہا ہوں اور میری اس دریافت میں آپ کا بڑا ہاتھ ہے۔ (طارق اشفاق ، عماد الملک روڈ، اے ایم یو، علی گڑھ) جواب حدیث میں آیا ہے کہ: ان الدین یسر (صحیح البخاری، کتاب الایمان) یعنی دین آسان ہے۔ اس کے مطابق، دین کو سمجھنا ہر آدمی کے لئے آسان ہونا چاہئے اور بلاشبہ اس کا سمجھنا آسان ہے۔ البتہ خدا کے دین کو سمجھنا اس وقت مشکل ہو جائے گا جب کہ آدمی خدا کے دین کو غیر خدا سے اخذ کرنے لگے۔ موجودہ زمانہ میں یہی پیش آیا ہے۔ لوگ عام طور پر دین کو اپنے مفروضہ اکابر کے ذریعہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی چیز لوگوں کے لئے فہم دین میں پردہ بن گئی ہے۔ میں خدا کے فضل سے کبھی بھی اکابر پرستی کا شکار نہیں رہا۔ میں امام ابو حنیفہ کے اس قول کو مانتا ہوں کہ هم رجال ونحن رجال ۔ اس لئے میں خود براہِ راست قرآن و سنت سے دین کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں اور اس دنیا کے لئے خدا کا یہ قانون ہے کہ جو شخص صحیح راستہ سے کوشش کرے وہ ضرور اپنے مقاصد کو پائے گا۔ (من جَدَ وَ جَد) اقبال کی مقبولیت کا سبب کیا ہے، وہ خود اقبال کے ایک شعر سے معلوم ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے بارے میں کہا: مرا یاراں غزل خوانے شمر دند (لوگوں نے مجھے ایک غزل خواں سمجھ لیا) غالباً اقبال یہ سمجھتے تھے کہ ان کے اشعار قوم کے اندر نئی سوچ لائیں گے اور لوگ تعمیر ملت کے محاذ پر سرگرم ہو جائیں گے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ اقبال کے اشعار لوگوں کے لئے ذہنی تفریح کا سامان بن گئے۔ اقبال نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader