Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال قرآن کی آیت هدی للمتقین (۲:۲) میں لفظ متقین اپنے اصطلاحی معنی میں ہے یا لغوی معنی میں۔ اصطلاحی معنی میں لیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ قرآن متقین بالفاظ دیگر مسلمین کے لئے تو ہدایت ہے، وہ غیر مسلمین کے لئے ہدایت نہیں اور اگر لغوی معنی میں لیں تو اگلی آیتوں میں متقین کی جو تعریف بیان کی ہے کہ وہ لوگ ایمان بالغیب رکھتے ہیں ۔ نماز ادا کرتے ہیں ۔ یہ تعریفات غیر مسلمین پر کیسے صادق آسکتی ہیں؟۔ کیا ایمان بالغیب اور اقامة صلوة اور انفاق کو بھی لغوی معنی میں لیکر اس مشکل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ (ابرار احمد رفعت ، سورت ) جواب قرآن عام طرز کی ایک مجرد تصنیف نہیں۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کے مختلف اجزاء حالات کی نسبت سے نازل ہوتے رہے ۔ یہاں تک کہ تقریباً ۲۳ سال میں اس کی تکمیل ہوئی۔ قرآن فہمی کے سلسلہ میں یہ ایک بے حد اہم نکتہ ہے۔ اس بنا پر ایسا ہے کہ قرآن کی ہر آیت کا ایک مصداق خاص ہے جو سبب نزول کے اعتبار سے ہے اور دوسرا اس کا مصداق عام، جو آیت کے تو سیعی انطباق سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی ایک مثال سورہ النور کی یہ آیت ہے۔ والذی تولى كبره منهم (النور ۱۱) سبب نزول کے اعتبار سے اس آیت کا ابتدائی مصداق قدیم مدینہ کا عبداللہ بن ابی تھا اور آیت کے تو سیعی انطباق کے اعتبار سے اس میں ہر وہ آدمی شامل سمجھا جائے گا جو کسی کو بد نام کرنے کے لئے ابن ابی جیسا پست کردار ادا کرے، خواہ وہ کسی بھی زمانے سے تعلق رکھتا ہو۔ اب سورہ البقرہ کی ابتدائی آیتوں کو لیجئے۔ اس کی آیت نمبر ایک سے لے کر آیت نمبرے تک کا خطاب رسول اللہ کے معاصر یہود سے ہے۔ اس کے آیت نمبر ۸ سے لے کر آیت نمبر ۲۰ تک کا تعلق قدیم مدینہ کے منافقین سے ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر ۲۱ سے لے کر آیت نمبر ۲۴ تک عام انسانیت سے خطاب کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد آیت نمبر ۲۵ سے اہل ایمان کا تذکرہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page