Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

شروع ہوتا ہے۔ سبب نزول کے اعتبار سے ان میں سے ہر آیت کا کوئی وقتی مصداق ہو سکتا ہے مگر اسی کے ساتھ ہر آیت کا ایک تو سیعی انطباق بھی ہے جو ہر دور کے انسانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ذالک الکتاب میں الف، لام عہد کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہی معہود کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں ۔ یہود و نصاریٰ پر جو آسمانی کتابی بھیجی گئیں ان میں ایک آخری آسمانی کتاب کی بشارت موجود تھی ۔ قرآن وہی آخری اور محفوظ کتاب ہے۔ مگر اس سے ہدایت اسی کو ملے گی جو اس کی ضروری شرطوں کو پورا کرے ۔ مدینہ میں اس وقت جو یہود آباد تھے وہ اپنے آپ کو اپنے نبیوں کی تعلیمات کا حامل بتاتے تھے۔ ان کے یہاں ایمان، نماز، زکوٰۃ وغیرہ کا وجود بھی پایا جاتا تھا۔ مگر ان کے یہاں اس کی اصل روح غائب ہو چکی تھی ۔ فرمایا کہ قرآن اگر چہ سراپا کتاب ہدایت ہے مگر اس کے ذریعہ صرف اس شخص کو ہدایت ملے گی جس کے اندر حقیقی معنوں میں متقیانہ مزاج پایا جاتا ہو ۔ الذین یؤمنون بالغیب ، جو غیبی حقیقتوں کو ماننے کے لئے تیار ہو، جس کے اندر عبادتِ الہی کی روح موجود ہو ، نمائشئی راستے کے بجائے اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو، جو اپنی مذہبی عصبیت میں مبتلا نہ ہو ۔ جو لوگ اس قسم کی صفات رکھتے ہوں وہ بہت جلد قرآن اور صاحبِ قرآن کو پہچان لیں گے اور اس سے ہدایت حاصل کریں گے۔ اس کے بعد ان آیتوں کا ایک عمومی اور تو سیعی پہلو ہے۔ اس اعتبار سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن اپنی ذات میں بلا شبہہ ہدایت ہے مگر اس دنیا میں کسی کتاب سے ہدایت لینے کے لئے ضروری ہے کہ ہدایت لینے والا ذہنی طور پر اس کے لئے تیار ہو۔ متقی کا اصلی اور لغوی مفہوم محتاط (cautious) ہے۔ انسان کی یہی صفت ہے جو اس کو حق کے معاملہ میں سنجیدہ بناتی ہے اور وہ اس کا سچا متلاشی بن جاتا ہے۔ اسی طرح ایمان کی اصل معرفت ہے اور معرفت صرف اس کو ملتی ہے جو دلیل سے ثابت ہو جانے کے بعد اس کو مان لینے کا مزاج رکھتا ہو ۔ صلاۃ کی شرط سے مراد یہ ہے کہ آدمی کے اندر تسلیم و رضا (submission) کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page