دیباچہ
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
حرام تک پہنچنے سے روک دیا گیا تھا۔ مگر اس بے انصافی کو ختم کرنے کے لئے رسول اللہ نے جنگ نہیں کی بلکہ صلح اور امن کا معاہدہ کر لیا۔ صلح کے نتیجہ میں وہ پرامن حالات ملے جس میں استحکام کی کوشش کی جاسکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پرامن کوششوں کے ذریعہ اسلام اتنا مستحکم ہو گیا کہ کسی لڑائی کے بغیر مسجد حرام اور مکہ اہل اسلام کے قبضہ میں آگیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اگر یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے تو انھیں جاننا چاہیے کہ اس نا انصافی کا اصل سبب خود مسلمانوں کا داخلی ضعف ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ امن کے حالات پیدا کرکے وہ تعمیری عمل کریں جس سے ان کی داخلی کمزوریاں دور ہو جائیں۔ اس کے بعد اپنے آپ انھیں انصاف مل جائے گا۔ سوال میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ فطرت کے تمام قوانین کو ایک جملہ میں جاننا چاہتا ہوں تاکہ زندگی کے ہر معاملہ میں اس جملہ کو بنیادی نقطہ نظر بنا سکوں۔ (سید عبد الحفیظ، جلگا وں) جواب فطرت کے قوانین کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے..... حقیقت پسندی۔ عام طور پر لوگوں کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ میرے موافق ہے وہ درست ہے اور جو میرے خلاف ہے وہ نادرست۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ جو حقیقت واقعہ ہو اس کو صحیح اور درست مانا جائے۔ اس دنیا میں جب بھی کوئی شخص ناکام ہوتا ہے تو وہ قوانین فطرت کی خلاف ورزی کرنے کی بنا پر نا کام ہوتا ہے، خواہ وہ بطور خود دوسروں کی سازش کو اس کا ذمہ دار بتا تارہے۔ سوال دہلی کے ایک ہفتہ وار ہندی اخبار پنچ جنینہ' کے حوالہ سے آپ کے خلاف کچھ باتیں اردو اخبارات ورسائل میں چھپی ہیں۔ مثلاً ماہنامہ البلاغ (بمبئی) کے شمارہ فروری ۱۹۹۹ میں یہ چھپا ہے کہ مولانا وحید الدین خاں نے فرمایا کہ " قرآن مجید میں لگ بھگ ۱۰۰ دوسری زبانوں کے الفاظ ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader