دیباچہ
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
جن میں سنسکرت خاص ہے اور یہ کہ محمد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو جن چار زبانوں پر عبور حاصل تھا ان میں سنسکرت بھی ایک تھی۔‘‘ (صفحہ ۴۶) اس طرح کی باتیں اور بھی کئی پرچوں میں چھپی ہیں۔ مثلاً دہلی کے روزنامہ قومی آواز کے شمارہ ۹ جنوری ۱۹۹۹ میں مراسلہ کے کالم میں آپ کی ایک تقریر کے حوالہ سے آپ کی طرف یہ الفاظ منسوب کئے گئے ہیں کہ ’’قرآن کریم میں ایک سوا الفاظ غیر عربی کے شامل ہیں جن میں بڑی تعداد سنسکرت کے الفاظ کی ہے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم چار زبانوں کے عالم تھے جن میں سے ایک سنسکرت زبان ہے۔‘‘ (صفحہ ۳) یہ بڑی عجیب باتیں ہیں۔ ان کو لے کر کچھ مسلم اخبارات ورسائل میں آپ کے خلاف سخت باتیں چھپی ہیں۔ براہ کرم بتائیں کہ اس معاملہ کی حقیقت کیا ہے؟ ۔ (عبدالرحمن، نئی دہلی) جواب یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں جو غیر ذمہ دارانہ صحافت کی پیداوار ہیں۔ اس صحافت کا شکار ہر وہ شخص ہوتا رہا ہے جو ’’نیوز‘‘ میں آجاۓ ۔ چنانچہ میرے خلاف بھی مسلم اخبارات ورسائل میں ایسے خطوط اور مضامین چھپتے رہے ہیں جو سراسر لغو اور بے بنیاد ہیں۔ میں ان کے بارے میں عام طور پر خاموشی کا رویہ اختیار کرتا ہوں اور مراسلہ نگاروں کے حق میں دعائے خیر کرتا ہوں۔ اس سے پہلے ایک بار قومی آواز میں میرے خلاف ایک بے بنیاد بات چھپی۔ اس کی تردید میں میں نے ایک مراسلہ بھیجا جو قومی آواز (۵ مارچ ۱۹۹۵) میں چھپا۔ میرے جوابی مراسلہ کو دیکھ کر تبلیغی جماعت کے معروف بزرگ مولانا اظہار الحسن صاحب مرحوم نے مجھے ایک خط لکھا۔ اس میں مجھے خاموشی کے اصول پر برقرار رہنے کی نصیحت کرتے ہوئے انھوں نے یہ شعر درج کیا تھا : اشارتاً بھی نہ قصے بیاں کئے ہوتے سے تھے ہونٹ تو آنسو بھی پی لئے ہوتے برائی کرنا برا ہے۔ مگر برائی کرنے والے سے نفرت کرنا اس سے بھی زیادہ برا ہے۔ (الرسالہ اگست ۸۸)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader