Urdu book · صوم رمضان

روزہ کا بیان

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں ان دعاؤں کا مطالعہ بہت مفید ہے جو روزہ کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ روزہ پورا کرنے کے بعد شام کو جب آپ افطار فرماتے تو آپ کی زبان سے دعا کے کلمات نکلتے ۔ اس سلسلہ میں حدیث کی کتابوں میں مختلف دعائیں نقل کی گئی ہیں ۔ ان میں سے کچھ دعائیں یہ ہیں : الحمدُ للہِ الّذی اعانَنی فصمتُّ شکر اور تعریف اس اللہ کے لیے جس نے مدد کی تو میں نے روزہ رکھا اور اس نے رزق دیا تو میں نے افطار کیا۔ و رزَقنِی فَا فطر تُ۔ اللھمَّ لکَ صُمنا و علی رِزقکَ افطرنا اے اللہ، ہم نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے دیے فتقبل منّا انّکَ انت السميع ہوئے رزق پر افطار کیا۔ تو ہم سے قبول فرما۔ بیشک العلیم۔ تو سننے والا، جاننے والا ہے ۔ اللّھمَّ لکَ صُمتُ و علی رِزقکَ اے اللہ، میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور میں نے افطرتُ۔ تیرے رزق سے افطار کیا۔ الحمدُللّہ ذہب الظّمأ و ابتلّت العُروق شکر اور تعریف اللہ کے لیے ہے ۔ پیاس بجھ گئی اور رگیں تر و ثبَتَ الاجر انشاء اللہ ہو گئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا۔ دعا کے یہ الفاظ روزہ کی روح کو سمجھنے کے لیے نہایت کارآمد ہیں۔ یہ دعائیں دراصل ان کیفیات کا اظہار ہیں جو بندہ مومن کے اندر روزہ رکھنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ اللہ کا ایک بندہ اللہ کے لیے دن بھر بھوکا پیاسا رہتا ہے۔ پھر شام کو جب وہ کھانے اور پانی سے اپنے آپ کو شاد کام کرتا ہے تو اس وقت اس کے قلب میں اپنے رب کے لیے جو کیفیات امڈتی ہیں، وہ کیفیات اسی قسم کے لفظوں میں ڈھل جاتی ہیں جس کا ایک نمونہ ان دعاؤں میں نظر آتا ہے ۔ جیسا کہ عرض کیا گیا قرآن میں روزہ کا حکم سورہ البقرہ رکوع ۲۳ میں ہے ۔ قرآن کا یہ حصہ ۵ھ میں مدینہ میں اترا۔ اس سے پہلے مکہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ہر مہینہ میں چند دن کا روزہ رکھتے تھے ۔ مگر ایک مہینہ کے روزہ کی فرضیت کا باقاعدہ حکم مدینہ میں نازل ہوا۔ یہ تدرّج کا طریقہ ہے اور یہ طریقہ اسلام کے تمام احکام میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔ روزہ کے لیے عربی لفظ صوم ہے۔ صوم کے اصل معنی ہیں رکنا صائم کا مطلب ہے رکنے والا ۔ روزہ دار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page