روزہ کا بیان
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
یاصائم چونکہ روزہ کے دنوں میں کھانے پینے سے وقتی طور پر رک جاتا ہے ۔ اس لیے اس کو صائم کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے روزہ کے مہینہ کو پر ہیز کا مہینہ کہا جا سکتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ شعبان کے مہینہ کے آخر میں ، جب کہ رمضان قریب آچکا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی مسجد نبوی میں خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے رمضان کے مہینہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت بیان کی۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو ، تمہارے اوپر ایک ایسے مبارک مہینہ نے سایہ کیا ہے جس کا پہلا حصہ رحمت ہے۔ اس کا درمیانی حصہ مغفرت ہے۔ اس کا آخری حصہ آگ سے نجات دلاتا ہے۔ یعنی رمضان کے مہینہ میں داخل ہونا ایسے مہینہ میں داخل ہونا ہے جس میں اللہ بندوں کے اوپر اپنی خصوصی رحمت نازل فرماتا ہے۔ اس مہینہ میں اللہ کی توفیق سے آدمی ایسے اعمال کرتا ہے جو اس کی مغفرت کا ذریعہ بننے والے ہوں۔ وہ اسی طرح اس مہینہ سے گزرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اس کے آخر میں پہنچتا ہے تو وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جس کو آگ سے نجات دی جائے اور اس کو جنت میں داخل کیا جائے۔ روایات میں مزید بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے بارہ میں اس قسم کا خطبہ دیا تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انھوں نے آپ سے ایک سوال کیا۔ انھوں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول ، اس مہینہ میں سب سے افضل عمل اور سب سے بہتر عمل کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس مہینہ میں سب سے بہتر عمل ہے۔ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا (افضلُ الاعمال في هذا الشهر الورعُ من محارم الله) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ یا صوم کی ایک شکل ہے ، اور ایک اس کی ایسپرٹ ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے صوم ایسپرٹ کہا جا سکتا ہے۔ یہ صوم ایسپرٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ان چیزوں سے روکے جن سے رکنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ وہ رمضان کے مہینہ کے صوم کو اپنے لیے سال بھر کا صوم بنالے۔ رمضان کے دنوں میں کھانے پینے جیسی چیزوں سے رکنا یا ان کا روزہ رکھنا گویا اسی کا ایک عملی سبق ہے۔ وہ آدمی کے اندر اسی صوم ایسپرٹ کو جگانے کی ایک تدبیر ہے۔ کھانا اور پینا آدمی کی ناگزیر ضرورتوں میں سے ہے۔ کھانا پینا وہ آخری چیز ہے جس سے کسی آدمی کو روکا جائے۔ ایسی حالت میں انسان کو اس کی آخری ضرورت سے روکنا گویا اس کو شدید تر انداز میں یہ سبق دینا ہے کہ اللہ نے تم کو جن چیزوں سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader