روزہ کا بیان
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتکاف کے دوران آدمی قرآن پڑھتا ہے ۔ وہ نفل نمازیں ادا کرتا ہے ۔ وہ اللہ کی یاد کرتا ہے ۔ وہ زیادہ سے زیادہ اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے ۔ ان مشغولیتوں کا نتیجہ ہوتا ہے کہ اس کے روزوں میں مزید زندگی پیدا ہوتی ہے ۔ جب وہ اعتکاف سے نکلتا ہے تو وہ ایک نئی ربانی شخصیت لے کر نکلتا ہے ، ایسی شخصیت جس کے اثرات مہینوں تک بھی ختم نہ ہوں ، جو مسجد کے باہر کی دنیا میں بھی اسی طرح برائیوں سے الگ رہے جس طرح وہ اعتکاف کے دوران اپنے ماحول سے الگ ہو گیا تھا۔ وہ اپنی پوری زندگی میں برائیوں سے علیحدہ رہنے والا انسان بن جائے ۔ روزہ کا مہینہ ختم ہونے کے بعد اگلا دن عید کا ہوتا ہے ۔ عید کے دن مسلمان دو رکعت خصوصی نماز ادا کرتے ہیں ۔ نئے کپڑے پہنتے ہیں ۔ آزادانہ طور پر کھاتے پیتے ہیں ۔ دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں ۔ روزہ کے دن اگبر پابندی کے دن تھے ۔ تو عید کا دن مسلمان کے لیے آزادی کا دن ہوتا ہے ۔ یہ علامتی طور پر دو حالتوں کا تجربہ ہے ۔ ایک ، دنیا کی حالت ۔ اور دوسری ، آخرت کی حالت ۔ دنیا مومن کے لیے پابندی کا دور ہے اور آخرت مومن کے لیے آزادی کا دور ۔ رمضان کے مہینہ میں اس کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کو کس طرح زندگی گزارنا ہے ۔ عید کے دن جزئی طور پر اس کو یہ تجربہ کرایا جاتا ہے کہ اگلی دنیا میں اس کو کس قسم کی زندگی حاصل ہوگی ۔ روزہ عمل کے دور کی علامت ہے اور عید انعام کے دور کی علامت ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader