Urdu book · صوم رمضان

رمضان کا مہینہ

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

رمضان کا مہینہ بخاری اور مسلم نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو باندھ دیا جاتا ہے۔ یہی بات تر ندی اور ابن ماجہ میں اس طرح آئی ہے کہ جب رمضان کے مہینہ کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور آگ کے دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہے، پس اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا۔ اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے، پس اس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا۔ اور پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے خیر کو چاہنے والے آگے آ ، اور اے شر کو چاہنے والے رک جا۔ اور اللہ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہے۔ اور ایسا ہی ہر رات کو ہوتا ہے۔ شیطان کا باندھلیا جانا فرد کی نسبت سے ہے نہ کہ عمومی طور پر تمام لوگوں کی نسبت سے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا بھر کے تمام شیطان ایک مہینہ کے لئے مکمل طور پر باندھ دئے جاتے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے مہینہ میں شیاطین اس فرد کی نسبت سے بندھ جاتے ہیں جو صحیح معنوں میں روزہ دار ہو۔ جو تمام آداب و شرائط کے ساتھ روزہ کا اہتمام کرے ۔ رمضان کے مہینہ میں ایسے روزہ دار شخص کے اوپر شیطان غیر موثر ہو جاتا ہے۔ اس حدیث میں بظاہر ” صوم “ کی بات کہی گئی ہے ، مگر در اصل وہ ” صائم “ کی بات ہے۔ اس میں اس انسان کا ذکر ہے جو روزہ سے یہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ ہو ، حدیث کے الفاظ میں، روزہ کو اپنے لئے ڈھال بنالے۔ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے اور ایک بندہ مومن اللہ کی خاطر اس کے روزے رکھتا ہے تو اس کو تقوی کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس عمل کے دوران اس کے اندر اعلیٰ قسم کی رحانی کیفیات ابھرتی ہیں جو آدمی کو ان فائدوں کا مستحق بنا دیتی ہیں جس کا ذکر حدیث میں کیا گیا ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ اے ایمان والو ، تمہارے اوپر رمضان کا روزہ فرض کیا گیا جس طرح پچھلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا ، تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو (البقرہ ۱۸۳)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page