Urdu book · صوم رمضان

روزہ اور قرآن

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

روزہ اور قرآن قرآن میں روزہ کا حکم دیتے ہوئے خصوصیت کے ساتھ نزولِ قرآن کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ روزہ اور قرآن میں خاصی مناسبت ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں : شھر رمضان الذی انزل فیہ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا۔ ہدایت ہے القرآن ھدی للناس وبینات من لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستہ کی اور حق و الھدی والفرقان فمن شہد منکم باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔ پس تم میں سے الشہر فلیصمہ (البقرہ ۱۸۵) جو شخص اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے۔ قرآن کا نزول ۶۱۰ء میں شروع ہوا۔ یہ قمری کیلنڈر کے اعتبار سے رمضان کا مہینہ تھا۔ پہلی وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت اتری جب کہ آپ حرا نامی غار میں تھے۔ غار حرا میں قرآن کا اترنا شروع ہوا اور ۲۳ سال کی مدت میں تدرجی نزول کے بعد وہ مدینہ میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔ قرآن جیسے ہدایت نامہ کا نزول انسان کے اوپر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام ہے۔ کیوں کہ دہ انسان کو سب سے بڑی کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ انسان کس طرح اپنی موجودہ زندگی کو معنی بنائے تاکہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں وہ معنویت سے بھری ہوئی اس دنیا میں داخل پا سکے جس کا نام جنت ہے۔ جنت انسان کی منزل ہے، اور روزہ گویا اس جنت تک پہنچنے کا راستہ۔ رمضان کا مہینہ اسی نعمت کی سالانہ یادگار منانے کا مہینہ ہے۔ قرآن کے نزول کی یہ یادگار جشن کی کی صورت میں نہیں منائی جاتی بلکہ تقویٰ اور شکر گزاری کے ماحول میں منائی جاتی ہے۔ اس مہینہ میں روزہ رکھنا نعمت خداوندی کا سنجیدہ اعتراف ہے۔ وہ عمل کی زبان میں یہ کہنا ہے کہ ________ خدایا، میں نے سنا اور میں نے اس کو تسلیم کیا۔ اسی کے ساتھ رمضان کا مہینہ قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے کا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں خصوصیت سے قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے۔ راتوں میں تراویح کی صورت میں قرآن کو ادب و احترام کے ساتھ سنا جاتا ہے۔ یہ مہینہ اس مقصد کے لیے خاص ہے کہ اس میں اللہ کی سب سے بڑی نعمت کا سب سے زیادہ تذکرہ کیا جائے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page