Urdu book · صوم رمضان

روزہ اور قرآن

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

نزولِ قرآن کے مہینہ میں قرآن کو پڑھتے ہوئے آدمی کو وہ لمحہ یاد آتا ہے جب کہ آسمان اور زمین کے درمیان نورانی اتصال قائم ہوا۔ اس کو یاد کرکے وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدایا، تو میرے سینہ کو بھی اپنی تجلیات سے روشن کردے۔ قرآن میں وہ ان سعید روحوں کی بابت پڑھتا ہے جنہوں نے مختلف وقتوں میں ربانی زندگی گزاری۔ وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا، تو مجھ کو بھی اپنے ان پسندیدہ بندوں میں شامل فرما۔ قرآن میں وہ جنت اور جہنم کا تذکرہ پڑھتا ہے۔ اس وقت اس کی روح سے یہ صدا بلند ہوتی ہے کہ خدایا، مجھے جہنم سے بچالے اور مجھ کو جنت میں داخل کردے۔ اس طرح قرآن اس کے لیے ایک ایسی کتاب بن جاتا ہے جس میں وہ جئے، جس سے وہ اپنے لیے رزق حاصل کرے۔ جس کے نورانی سمندر میں غسل کرکے وہ پوری طرح پاک ہوجائے۔ قرآن بندے کے اوپر اللہ کا انعام ہے، اور روزہ بندے کی طرف سے اس انعام کا عملی اعتراف۔ روزہ کے ذریعہ بندہ اپنے آپ کو شکرگزاری کے قابل بناتا ہے۔ وہ ایک غیرمعمولی خدائی حکم کی تعمیل کرکے خدا کی برتری کے احساس کو اپنے اوپر طاری کرتا ہے۔ روزہ کے کورس سے گزر کر وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق وہ دنیا میں متقیانہ زندگی گزار سکے۔ روزہ ایک مخصوص عمل ہے۔ اس سے آدمی کے دل میں نرمی اور شکستگی آتی ہے۔ اس طرح روزہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر لطیف نفسیات کو جگائے۔ وہ ان کیفیتوں کو احساس کی سطح پر پا سکے جو اللہ کو اپنے بندوں سے اس دنیا میں مطلوب ہیں۔ روزہ کا پرمشقت تجربہ آدمی کو مادی سطح سے اٹھاکر روحانی سطح کی طرف لے جاتا ہے۔ روزہ ایک قسم کی تربیت ہے جس سے آدمی کے اندر یہ استعداد پیدا ہوتی ہے کہ وہ تڑپ کی سطح پر خدا کا عبادت گزار بنے۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ اللہ کی شکرگزاری میں اس کا سینہ تڑپے۔ اور اللہ کی پکڑ کے خوف سے اس کے اندر کپکپی پیدا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page