روزہ اور قرآن
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سے پہلے اس کا معاملہ یہ تھا کہ جب پیاس لگی تو پانی پی لیا۔ بھوک لگی تو کھانا کھا لیا۔ اب روزہ رکھنے کے بعد اسی شخص کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ اس کو پیاس لگے تب بھی وہ پانی نہیں پیتا۔ اس کو بھوک محسوس ہو تب بھی وہ کھانا نہیں کھاتا۔ اس طرح وہ رمضان کے مہینہ میں اس بات کی تربیت حاصل کرتا ہے کہ وہ ایک محکم اصول کی پیروی میں اپنی زندگی گزارے گا، اور یہ اصول وہی ہوں گے جو خداوند رب العالمین نے اس کے لیے ابدی طور پر مقرر کر دیے ہیں۔ روزہ دار اس طرح مشقت اٹھاتے ہوئے اور خدا کی یاد کرتے ہوئے اپنا دن گزار دیتا ہے۔ یہاں تک کہ شام آ جاتی ہے۔ سورج غروب ہو کر دوبارہ آسمانی اشارہ کی زبان میں کہتا ہے کہ اے خدا کے بندو، تم نے خدا کے ساتھ کیے ہوئے اپنے عہد کو پورا کر دیا۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ خدا تمہارے ساتھ کیے ہوئے اپنے عہد کو پورا کرے۔ اب تمہارے اوپر سے پابندی اٹھا لی گئی۔ اب تم آزاد ہو۔ اب تم خدا کی دی ہوئی نعمتوں میں سے کھاؤ اور پیو۔ اب نہ تمہارے لیے پانی پینے پر کوئی روک ہے اور نہ تمہارے لیے کھانا کھانے پر کوئی روک۔ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے تم جس طرح چاہو خدا کی نعمتوں کو استعمال کرو۔ روزہ کے بعد افطار کا یہ تجربہ اہل ایمان کے لیے مزید ایک خوش خبری ہے۔ وہ یاد دلاتا ہے کہ موجودہ افطار ایک اور زیادہ بڑے افطار کی علامت ہے۔ یہ روزہ دار کو علامتی طور پر بتاتا ہے کہ سب سے بڑی نعمت کا دن تمہارے لیے آخرت میں آئے گا جب کہ خدا ظاہر ہو کر تمہاری عبادتوں کی قبولیت کا اعلان کرے۔ اور تم کو جنت کے ابدی باغوں میں داخل کر دے جہاں دوبارہ تمہیں کوئی مشقت نہ اٹھانا پڑے۔ ◯

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader