Urdu book · صوم رمضان

روزہ اور قرآن

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

برکتوں کا مہینہ رمضان کا مہینہ ہر قسم کی خیر و برکت کا مہینہ ہے۔ اس کے ذریعہ سے روزہ دار کو جسمانی صحت، روحانی پاکی، معاشی فراوانی اور دوسری برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ خدا پرست لوگوں کے لیے رمضان کے مہینے کا آنا ایسا ہی ہے جیسے بہار کی فصل کا آنا۔ رمضان کا مہینہ اسلامی شریعت میں روزہ کا مہینہ ہے۔ رمضان کا آغاز شعبان کی آخری تاریخ کو چاند دیکھنے سے ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا پہلا چاند آسمان پر دیکھا تو فرمایا: (اللہم أہلہ علینا بالامن والایمان والسلامۃ والاسلام (اے اللہ، تو اس آنے والے مہینہ کو ہمارے لیے امن اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کا مہینہ بنادے) اس سے معلوم ہوا کہ رمضان کے مہینہ کا خاص مقصد آدمی کے اندر ایمان و اسلام اور امن و سلامتی کے احساس کو جگانا ہے۔ اس مہینہ میں روزہ کے تربیتی کورس سے گزار کر آدمی کے اندر روحانی اور انسانی کیفیات کو ابھارا جاتا ہے۔ تاکہ وہ اس قابل ہو جائے کہ آئندہ سال بھر اس طرح رہے کہ ایک طرف اللہ سے اس کا ایمانی تعلق مضبوط ہو، اور دوسری طرف وہ لوگوں کے درمیان امن و سلامتی والا انسان بن کر رہ سکے۔ وہ خدا کا اچھا بندہ بھی بنے اور سماج کا اچھا فرد بھی۔ اس کے بعد روزہ دار فجر سے پہلے سحری کھاتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ سحری کھاؤ، کیوں کہ سحری میں برکت ہے (تسحر وا فان فی السحور بركة) فجر سے پہلے اٹھ کر اگلے دن کے روزہ کی نیت کرنا اور آخری کھانے کے طور پر سحری کھانا بہت با معنی ہے۔ یہ گویا اپنے اندر روزہ کی آمادگی پیدا کرنا ہے۔ کمپیوٹر کی اصطلاح میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ذہن کی پروگرامنگ ہے۔ اس طرح آدمی ذہنی طور پر تیار ہو جاتا ہے کہ وہ صبح سے شام تک روزہ کے عمل کا تحمل کر سکے۔ عام دنوں میں اگر صبح سے شام تک کھانا اور پانی نہ ملے تو آدمی سخت تکلیف محسوس کرتا ہے۔ مگر رمضان میں وہ پورے مہینہ تک اس کو با آسانی گوارا کر لیتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ذہن کی پروگرامنگ ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ روزہ برائیوں کے خلاف ڈھال ہے۔ تمام برائیوں کا سبب نفسانی جذبات ہوتے ہیں۔ مثلاً کوئی شخص اشتعال دلانے والے الفاظ بول دے تو آدمی غصہ میں بھڑک کر اس سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page