Urdu book · صوم رمضان

احتسابِ خویش

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

احتسابِ خویش انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) میں روزہ (فاسٹنگ) کے باب کے تحت مختلف مذہبوں میں روزہ کا تصور بتایا گیا ہے اور ان کا باہمی تقابل کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں اسلامی روزہ کا تذکرہ بھی ہے۔ اس میں اسلامی روزہ کے بارہ میں یہ الفاظ درج ہیں: رمضان کا مہینہ اسلام میں توبہ کے زمانہ کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس میں صبح سے شام تک کھانے پینے سے مکمل پر ہیز کیا جاتا ہے : The month of Ramadan in Islam is observed as a period of penitence and total fasting from dawn to dusk. (vol. IV, p.62). توبہ کی حقیقت احتساب ہے۔ مومن کے لیے اس کی بے حد اہمیت ہے۔ تاہم توبہ یا احتساب اسلام میں کوئی زمانی یا دوری چیز نہیں۔ توبہ کا تعلق کسی خاص دن یا کسی خاص مہینہ سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق مومن کی پوری زندگی سے ہے۔ البتہ یہ کہنا درست ہوگا کہ رمضان کے مہینہ میں آدمی کے اندر توبہ و استغفار کا احساس عام دنوں کے مقابلہ میں زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔ توبہ کے لفظی معنی پلٹنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح کے مطابق، توبہ کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے رب سے منحرف ہونے کے بعد دوبارہ اس کی طرف پلٹ آئے۔ یہ توبہ مومن کی ایک عمومی صفت ہے۔ اس کا تعلق صرف بڑے گناہوں سے نہیں ہے بلکہ چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں سے بھی ہے۔ آدمی کی حساسیت جتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہوگی، اتنا ہی زیادہ اس کے اندر توبہ کا جذبہ ابھرے گا۔ حتی کہ اگر اس کی زبان سے کسی کے بارہ میں نامناسب کلمہ نکل جائے تو اس پر بھی وہ تڑپ اٹھے گا اور اس کے فوراً بعد اپنی کوتاہی کی تلافی کی طرف دوڑ پڑے گا۔ روزہ کا زمانہ چونکہ مومن کی حساسیت میں اضافہ کر دیتا ہے ، اس لیے روزہ میں توبہ کا احساس بھی عام دنوں کے مقابلہ میں زیادہ جاگ اٹھتا ہے۔ بھوک اور پیاس سے آدمی کے اندر عجز کی کیفیت بڑھتی ہے۔ اور جب آدمی کے اندر عجز کی کیفیت بڑھتی ہے تو اسی نسبت سے توبہ کی کیفیت بھی اس کے اندر پہلے سے زیادہ پیدا ہو جاتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page