Urdu book · سیرتِ رسول

مواخاۃ

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ اس کو قبول کرلیا۔ انصار مدینہ کے باشندے تھے۔ ان کے پاس گھر اور مال اور زمین اور باغات تھے۔ ہر انصاری نے اپنے تمام اثاثہ کو تقسیم کرکے اس کا آدھا حصہ خودلیا اور بقیہ آدھا حصہ اپنے مہاجر بھائی کو دے دیا۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ کوئی انصاری اپنے مال اور جائیداد کا اپنے مہاجر بھائی سے زیادہ اپنے کو مستحق نہیں سمجھتا تھا۔ انصار کے اس غیر معمولی ایثار کو دیکھ کر کچھ مہاجرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں، ان سے بڑھ کر ہم نے کسی کوتنگی میں ہمدردی کرنے والا اور کشادگی میں خرچ کرنے والا نہیں پایا۔ ہم کو اندیشہ ہے کہ تمام اجر صرف ان کو مل جائے اور ہم اجر سے محروم رہیں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، جب تک تم ان کی تعریف کرو اور ان کے لیے دعا کرتے رہو۔ ابتداء مواخات میں وراثت کا حق بھی شامل تھا۔ بعد کو وراثت کا حق منسوخ ہوگیا۔ وراثت کا معاملہ نسبی رشتہ داروں کے لیے خاص کردیا گیا۔ البتہ بقیہ پہلوؤں سے تمام مسلمان بھائی بھائی بن کر رہنے لگے۔ ابن سعد کے مطابق، مواخات 45 مہاجرین اور 45 انصار کے درمیان ہوئی ۔ کچھ نام یہاں درج کیے جاتے ہیں: مہاجر انصار ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اوس بن ثابت رضی اللہ عنہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page